tubetranscript.io

Mystic Rumi · Transcript · · Updated

Masnavi Explained | Timeless Sufi Wisdom of Rumi | Episode 21 – Transcript

Video by Mystic Rumi · Watch the original on YouTube

Summary

AI-generated from the transcript. Verify details against the source video.

  • مولانا رومی فرماتے ہیں کہ بادشا کی طرح وزیر بھی نادان تھا جو ہستیس سے لڑنے کی کوشش کر رہا تھا
  • دکھ اور غم کی وجہ چیزوں کو ویسا نہ ماننا ہے جو وہ ہیں اور ہر انسان کسی نہ کسی چیز کو بدلنا چاہتا ہے
  • اکل اور شخصیت یعنی منہا کبھی حقیقت کی طرف کا رستہ نہیں بن سکتی چاہے یہ جتنی بھی تیز ہو جائے
Video thumbnail: Masnavi Explained | Timeless Sufi Wisdom of Rumi | Episode 21
Source video on YouTube · Transcript generated automatically and may contain errors.

Use this video with Pro

Reading, copying and transcript downloads are free. Create saved AI results for this video with a signed-in Pro account ($9/month).

Transcript

Search ignores accents. All transcript text stays visible.

وزیر کے اس مقر میں ہونے والا خسارہ باتشاہ کی طرح وزیر بھی نادان اور خافل تھا جو قدی وہ ناغوزیر حستی سے پنجا آز مائی کر رہا تھا

ایسے قادر خدا سے کہ جو ادم سے سینکرون جہاں پل میں تخلیق کرتا ہے جو سو عالم ایک نظر میں پیدا کرمے والا ہے جب وہ تیری آنک کو خود کے لیے کھول دیتا ہے وہ عالم کے جو تیرے لیے بہت وصیح ہے

قدرت کی نظر میں ایک زرہ بھی تو نہیں یہ جہان تمہاری جان کا قید خانا ہے خوشیار اس طرف دور جو خدا کا میدان ہے یہ دنیا مہدود ہے اور وہ لاحد ہے نقش اور شکلیں اس حقیقت کی راہ کی رقاورت ہے فران کے لاکھون بھی نیزیں ہوں

موسا کی ایک لاٹھی سے سب تُوٹ گئے حقیم جالی نوس کی لاکھوں حکمتیں ایسا اور اڑ کے دم کے سامنے بیکار تھی اشار کے کئی ہزار دفتر اس امی کے قلام کے سامنے زیر تھے ایسی غالب ہستی کے سامنے کوئی کیوں نہ مٹے اگر وہ قبینا نہیں پہار سے سخت دل اس نے اخار دیئے

چالاک پیرندے کے دو پاؤں ہوتے ہیں انہیں ہوا میں مولق کر دیئے تو اکل اور شخصیت کو تیز کرنے اس سے راہ نہیں ملتے ہستی اسی پر فضل کر دیئے جو مٹنا اختیار کرتا ہے کتنے ہی بڑے خزانیں جمع کرنے والے ہیں کہ جن پر اکل مندو کو ہستے اور تمس خر اراتے دیکھا گیا ہے

بادشا ہے یا وزیر وہ نادان اور رافل ہی ہو سکتا ہے کہ جو چیزوں کو ویسا ہونے سے روک رہا ہے جیسی وہ ہیں مولانا رومی فرماتیں کہ بادشا کی طرح وزیر بھی نادان تھا جو ہستیس سے لڑنے کی کوشش کر رہا تھا کبھی سوچا آپ لوگوں نے نادانی کیا ہے قفلت کیا ہے صرف ایک چیز

ریجیکٹنگ ازنس جو ہے اسے قبول نہ کر پانا دنیا میں عربوں لوگ ہیں عربوں ہی جینے کے دھنگ ہیں اور کمو بیش اتنے ہی نظریے ہیں اتنے ہی نظرے ہیں یہ سب ہستی کو قبول ہیں بندوں کو قبول نہیں ہیں سمندر کو سارے کترے قبول ہیں

مگر سمندر کے کچھ کتروں کو کچھ کترے قبول نہیں ہیں ہستی کی گرینٹس کی میں رکھ کر زرا سوچیں تو اس سے زیادہ بڑی نادانی گفلت اور کیا ہوگی اور اس نادانی کی پتا ہے کیا سزا ہے ایک ہی سزا ہے انسانی دکھوں کی بس یہی ایک کہانی ہے

جو ہے اس سے قبول کرنے سے اس کا انکار بادشاہ اور وزیر کی طرح کسی بھی انسان کو اٹھا کے دیکھ لیں خود کو دیکھ لیں ہر اس انسان کو دیکھنے جو دکھ سہرا ہے وہ چیزوں کو قبول نہ کرنے کے علاوہ جی اور گم کا شکار تمہیں نہ ملے گا بادشاہ کا گم کیا تھا

یہی نہ کہ اسائی کیوں ہیں وزیر کا گم کیا تھا یہی نہ کہ اسائی کیوں ہیں اب ان کو چھوڑ کر خود پر توجہ لیا ہو زرا ہر نظریہ ہی یہی کہہ رہا ہے کہ دوسرے نظریہ کیوں ہیں ہر نظر کہہ رہی ہے کہ یہ دوسری طرح سے دنیا کو دیکھنے والی نظریں کیوں ہیں نہ دانوں صرا سوچو

سب ایک نظر سے دنیا کو دیکھنے والے ہوتے ہر نظر کے سامنے دنیا ایک ہی طرح سے ظاہر ہوتی تو صرف ایکی رنگ تمہاری دنیا میں ہوتا سوچو حصتی کا یہ سارا کھیل کتنا بے رنگ ہوتا مولانا رومی جیسے لوگوں کی باتوں کو ان کہانیوں ان تمسیلیوں تک مہدود کبھی نہ کرنا

یہن لوگوں کے ساتھ بڑا ظلم ہوگا تمسیل کہانی کسہ واکیا یہ کچھ نہیں ہوتا یہ تو بس کیپسول ہے کیپسول کا بہاری خود جس کے ذریعے سے کوئی دواہ ہے جو وہ تم سے نکلوانا چاہتے ہیں یہ شیر کا مطلب بس اتنا سا ہے کہ اپنی غفلتوں اپنی نادانیوں پر نظر کرو

کبھی اور سے سوچنا کہ جو کسی کو بدلنے کی کوشش میں ہے وہ کر کیا رہا ہے وہ کہ کیا رہا ہے وہ حصتی کو کہ رہا ہے کہ تیری سکیم میں خرابی ہے اسے درست کر کسی ایک بھی انسان کو بدلنے کی کوشش میں تم لگے ہو تو یاد رکھنا دکھوٹھا ہوگے کیونکہ ایک انسان کو بدلنے کی کوشش

اور خاہش کا مطلب بس اتنا ہے کہ تم پوری قائنات کو بدلنا چاہتے ہیں سوچو ایک شخص ہے جو گھر کی ایک فرد کو بدلنا چاہتا ہے وہ اگر اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو جائے تو کیا پھر وہ بیٹھ جائے گا سوچ کر دیکھو نہیں بیتھے گا پھر وہ پورے گھر کو بدلنے گا

پھر وہ پورے محلے کو بدل correction بڑے گا پھر پوری شہر کو بدلنے کی خاہش بills پھر پورے مرق کو بدلنے کی تیاری کرے گا پھر پوری دنیا کو بدلنے کی کوشش کرے گا اور پھر پھوری قائنات کو بدلنے کی خاہش کرے گا اس لیے یاد رکھنا کر جو کش بدلنا چاہتا ہے جو کسی کو بدلنا چاہتا ہے

وہ حستی کو بدلنے کے سفر پر روانا ہے وہ حسل میں چل ہی اس لیے رہا ہے کہ سب کچھ بدل دالے اور یہی چیز رومی کہہ رہے ہیں کہ یہ غفلت ہے نادانی ہے یہ شخص کسی دوسرے سے مقابلہ نہیں کر رہا ہے یہ اس حستی سے مقابلہ کر رہا ہے جو ازلتہ عبد فہلی ہوئی ہے اس کوشش میں سوچو

ناکامی کے سیوہ اور کیا مل سکتا ہے اور ناکامی دوکھ کے سیوہ اور کیا لہا سکتی ہے اس حستی سے مقابلہ کیسے کرو گے کہ جو پل بھر میں سینکروں عالم تخلیق کرنے پر قادر ہیں تغیی اور تبدل جس کا دھنگ ہے وہ حستی کے جو ہر پل میں نئے رنگ سے خود کو عاشکار کرتی ہے مگر خود نہ عاشکار رہتی ہے

وہ حستی کے جو کبھی خود نہیں بدلتی ہے مگر ساری حقیقتوں کو پل پل بدلتی رہتی ہے اس سے کیا تیرا مقابلہ کرنا کوئی جواز رکھتا ہے تُو جو ایک ایک لکمے کے ساتھ خود بدل رہا ہے تُو جو ایک ایک تھاٹ سے بدل رہا ہے تو جو خود ہمادم بدل رہا ہو اس نہ بدل سکنے والی نا عاشکار

اللہ مہدود حستی کے مقابلے میں اتر کیسے آیا ہے پر پر اگر تُو دوکی ہے تو اس پر حیرت کیوں تیری ازمت کا راس تو بس ایک چیز میں چھپا ہے کہ ہر دم بدل رہی اس قائنات میں اس حستی کو دھون لے کے جو خود نہیں بدل رہی مادی کی ہر دم بدل رہی دنیا میں

اس لاشے کو دیکھ لے جو نہیں بدل رہا یہ ہے درست کھوچ یہ ہے تیرہ بامِ اوروچ کہ جب وہ حستی تیری نظر کو اپنے نیے کھول دے تلاش سیکنگ اگر کوئی ہو سکتی ہے تو بس یہ ہی ہو سکتی ہے کہ جو بے حد ہے اللہ مہدود ہے اس تک پہنچا جائے

توجے تیری یہ دنیا مڑی وصی لگتی ہوگی مگر اس حستی کے لیے یہ ایک ذرے سے بھی قب وقت رکھتی ہے یقین نہیں آتا تو کسی مہرے فلکیات سے قبھی بیٹھ کے پوچھنا اس پوری قائنات میں تیری زمین کے سیارے کی ویلیو کیا ہے تو جس آلم کو بدلنے کی تگودو کر رہا ہے وہ حستی کے زہرا میں ایک ذرہ تک نہیں

وہ اس وجودِ کل میں ایک خلیہ تک نہیں ہے تو حواس کا قیدی بن گیا ہے تیرے حواس کی مجبوری ہے کہ وہ دنیا کو بہت بڑا کر کے دکھاتے ہیں یہ جس دنیا کی طاقتیں تمہیں آزادی کا پروانا لگتی ہے یہ دنیا آسل میں تمارا قید خانا ہے قید خانے کی دیواروں کو مزبوط کر کے

آزادی کا خواب دیکھنے والا کتنا نادان ہو سکتا ہے خود سوچ کے دیکھو تو اس قید خانے کو اپنی مرزی کا کرنا چاہتا ہے سونے کے پانی سے رنگ دینا چاہتا ہے تو اس قید خانے کو بیٹھا سجا رہا ہے مگر قید خانا تو قید خانا ہی ہے وہ دکھ تو دیتا ہی رہے گا

دیکھتے نہیں ہو کہ بادشاہ اور وزیر جیسے با اختیار لوگ بھی کتنا دکھ بھوگ رہے ہیں وہ یہودی بادشاہ اسائی اور اسائیوں کو مٹانے میں راد دن تڑپ رہا ہے وزیر اپنے نا قان کتھوہ کر ہاتھ پاؤں تڑوہ کر تڑپ رہا ہے اور یہ بڑی شاندار تمسیل ہے کہ جو شخص حستی کے مخالف کھڑا ہو گیا اس کے حواس سے وہ محروم ہو جاتا ہے

وہی حواس جو اسی اس بے کنار حستی کا نظارہ کرا سکتے ہیں وہ اس کے لیے دکھ کی وجہ بن جاتے ہیں وہ پھر آن کے قان ناق رکھنے کے باوجود سمون بکمون امیون ہو جاتا ہے رومی کہتے ہیں تھوڑا ہوشیار ہو اس قید خانے کو سجانے سوارنے کی فکر میں نہ پڑ بلکہ اس آزادی کی طرف دور

اس حستی کی طرف دور جولا مہدود ہیں جو بے کرا ہے وہاں ہے تیری آزادی کا احساس بھی اور تیری آزادی کا سامان بھی تیری اندر بے کنار وصد کی جو خاہش کبھی نہیں مرتی اس کی تشفی کا سامان مہدود میں کیسے ہو سکتا ہے کبھی تم نے غور سے دیکھا ہے کہ تم جو آنائی بھی خاہشے کرتے ہو

پر اسی بڑی خاہش بھی آخر تک تشنا رہتی ہے انسان دنیا کے سارے خزانوں کا مالک بھی بن جائے تو مزید کی خاہش کبھی تم میں نہیں مرتی یہ پوائٹ بزاتِ خود اشارہ ہے اس حستی کی طرف جولا مقان و لا زمان اور بے کنار ہیں فلیسفہ کہتے ہیں کہ انسان میں نہ ممکن کی خاہش کبھی پیدا نہیں ہوا کرتے

لیکن اگر ساری خاہشیں آخری نتیجے میں نہ ممکن ثابت ہوتی ہے مہدود ثابت ہوتی ہے تو سوچنا چاہیے کہ آخر یہ سب کچھ پا لینے کی خاہش تم میں کیوں پیدا ہوتی ہے آنا اور ہستی کا بس یہی سارہ بھید ہے اور اس خوبصورت بات کو آج کی اپیسورد میں شامل اشار کے آخری مصرے میں مولانا رومی نے بڑے ہی شاندار انداز میں کہا ہے

رومی فرماتے ہیں یہ فارمز حیاتیں شکلیں روپ بہروپ اس ابدی حقیقت اس لازی وال ہستی تک رسائی کی راہ میں مدد نہیں روکاورت ہے تمہاری آنا جو ہواس کی قیدی ہے وہ شکلیں دیکھ پاتی ہے وہ مٹر کو دیکھ پاتی ہے

ہواس جو دیٹا جماہ کرتے ہیں وہ شکلوں اور فارم سے متعلق ہوتا ہے ان ہواس سے اسی سنس دیٹا سے تمہارا مائند بنتا ہے اور اسی مائنڈ سے تم انا تشکیل دیتے ہو وہ انا جو پھر خاہشو کا سارا کھیل رچاتی ہے اس ہواس کی زد میں آنے والی فورم سے جب تم اوپر اٹھتے ہو

Frequently asked questions

جو ہے اس سے قبول نہ کر پانا یعنی ریجیکٹنگ ازنس نادانی اور غفلت کہلاتی ہے

جو چیزیں جیسی ہیں انہیں قبول نہ کرنے کا انکار ہی انسان کے دکھوں کی بنیادی کہانی ہے

مولانا رومی فرماتے ہیں کہ عقل اور شخصیت انسان کو حقیقت کی طرف کا رستہ نہیں دے سکتی کیونکہ عقل اور انا کبھی حقیقت تک نہیں پہنچا سکتیں