tubetranscript.io

With Abdul Qadir Mushtaq · Transcript · · Updated

Ideology and Muslim Identity – Transcript

Video by With Abdul Qadir Mushtaq · Watch the original on YouTube

Summary

AI-generated from the transcript. Verify details against the source video.

  • ڈاکٹر ادر مشتاک نے برصغیر کے اندر اسلام کے پھیلنے کے تین اہم ذرائع یعنی ٹریڈرز، انویڈرز اور سوفیز کا ذکر کیا ہے۔
  • مجدد الفسانی، شاہ ولی اللہ اور سر سید احمد خان جیسی شخصیات نے مسلم شناخت قائم کرنے کے لیے مصلحین کا کردار ادا کیا۔
  • مجدد الفسانی نے کائنات کی تمام تر حاکمیت یا سوانیت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو قرار دیا۔
Video thumbnail: Ideology and Muslim Identity
Source video on YouTube · Transcript generated automatically and may contain errors.

Use this video with Pro

Reading, copying and transcript downloads are free. Create saved AI results for this video with a signed-in Pro account ($9/month).

Transcript

Search ignores accents. All transcript text stays visible.

اسم اللہ الرحمن الرحیم میں ہوں ڈاکٹر ادر مشتاک گوامنٹ کالے یونسٹی فیصلہ بات سے اور میں آج آپ کا ساتھ دسکس کروں گا ڈیالو جی ان کانسٹیٹوشنہ پاکستان جب ہم ڈیالو جی کی بات کرتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہم مسلم ایڈینٹریٹی کو ہم اسٹابلش کریں کہ مسلم ایڈینٹریٹی کیس طرح اسٹابلش ہوئی اور پھر اس کو لے کے ہم نے کیس طرح ایک پلوٹیکل سٹرگل چلائی

اور وہ پاکستان بنانے تک مسلمان اور مسلم لیگ کی جو پولیٹکس ہے وہ اس کے گرن گوام تھی لیے اس کے لیے ہمیں ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہم برسغیر کے اندر جو اسلام پھیلا ہے ہمیں سب سے پہلے اس کو انالیس کرنے کی ضرورت ہے آپ جب دیکھتے ہیں کہ یہاں پہ جب سوفیز یہاں پہ آئے اور انہوں نے یہاں پہاک اسلام کی طبلیق شروع کی تو انہوں نے یہاں کا جو کلچر ہے

اس کلچر کو اڑاوٹ کر کے اس کے اندر جاکے انہوں نے اسلام کی طالیمات کو فروع دیا اب جب ہم اسلام کی پریچنگ کی بات کرتے ہیں تو دنیاں بھر میں جب ہم دیکھتے ہیں اسلام کی پریچنگ کیس طرح ہوئی تو اس میں جو ہمیں فیکٹرز نظر آتے ہیں اس میں ہم نے دیکھا کہ ٹریڈرز کے ذریعے اسلام دنیا میں پھیلا انویڈرز کے ذریعے پھیلا اور سوفیز کے ذریعے پھیلا

یہ تین جو چیزیں ہیں یہ ہمارے سامنے ہیں ایک ٹریڈرز نے اسلام پھلایا یہ آپ انڈونیشیا اور ملیشیا کے اگزمپل آپ کے سامنے ہیں اسی طرح انویڈرز ہیں کہ انویڈرز جو ہیں وہ جہاں پر گئے انہوں نے اسلام کی طبلیق کی اور اس کے بعد اسلام پھلا اور تیسرہ جب ہم برسلیت کی بات کرتے ہیں تو یہاں سوفیز کا رول ہمارے سامنے جو ہے وہ بڑا پرومننٹ ہوتا ہے

تو سوفیز کا یہاں جو ہے وہ جب یہاں پر آئے تو ابنام نے دیکھنا یہاں کہ یہاں کا جو کلچر تھا وہ کیا تھا اس کو انہوں نے اڑاوپ کیا اور اس کے اندر جاکے لوگوں کو انہوں نے اسلام کی طبلیق کیا اور اپنی طرف اٹریکٹ کیا اس میں جو یہاں کا پرومننٹ کلچر کا پہلا ہمیں پوائٹ نظر آتا ہے وہ تھا موزک کا

اور دوسرا جو ہے وہ ہے قرامات کا اب یہ دو چیزیں جو ہے یہ بڑی پرومننٹ ہے جو آج تک یہاں ہمارے رلیجن کا بھی حصہ بن چکی ہیں اور اس کے بعد جو تیسرہ جاتا ہے وہ کاث سیسٹم تھا یا جو پور لوگ تھے یا انٹا چیبل شو لوگ تھے ان کا یہاں پر میں تیسرہ وہ ان کا پوائٹ نظر آتا ہے اب سوفیز نے یہاں آکے موزک کو اڑاب کیا جس کی شکل میں قوالی جو ہے وہ مارے بقیدہ چشتی اوڑر جو ہے اس کی عبادات کا حصہ بنی ہوئی ہے

اور قوالی کے کونٹنٹس انہوں نے اس طرح دویلٹ کیے کہ جس کے ذریعے اسلام جو ہے وہ پورے برسغیر میں یا بلکہ برسغیر کے اندر پہلنا شروعا پر اس کے بعد قرامات تھی کہ یہاں قرامات کا ہم اسلام کی آمت سے پہلے بھی یہاں قرامات موجود تھی اگر ہم رامائن کو دیکھیں مہا بھارت کو دیکھیں تو ان کے اندر قرامات کا بہت زیادہ ذکر ملتا ہے لیکن سوفیز نے آکے یہاں اپنی قرامات جب شو کی تو لوگ ان کی طرف اٹریکٹ ہوئے

کیونکہ قرامات سے لوگ سوفیز کی آمت سے پہلے بھی قرامات سے لوگ متاصر ہوتے تھے لیادہ سوفیز نے ان قرامات کا جو سلسلہ تھا اس کو کنتمیو کیا پھر جو کیسرہ فکٹر ہے وہ یہ تھا کہ انٹا چیبلز یا جو ایک اکاس سسٹم آپ کہا سکتے ہیں کہ یہاں ایک بہت بڑا علمی ہے یہ تھا کہ یہاں جو برہمن ہے یا جو خشتری ہے ویش ہے شودر ہے

یہ وہ لوگ تھے جن کا ان کی پدیش کے ساتھ ہی رول دیترمنٹ ہوتا تھا مثلن اگر برہمن پیدا ہوا ہے وہ چاہیے جتنا مرزی دلے رو جاتا لیکن وہ کسی اور فیلڈ میں نہیں جا سکتا تھا وہ صرف ابادات کی حطہ کی مدود رہتا تھا اسی طرح خشتری ہیں وہ اگر ان کا کوئی نو جوان فوج میں جانا چاہتا تھا تو وہ فوج میں نہیں جا سکتا تھا وہ خیطی باری سے ہی وہ بستا رہتا تھا تو سوفیز نے آکے اس یہ جو سسٹم ہے

اس کو انہوں نے ریفارم کیا یا اس کے اندر انہوں نے چینجز متارف کروائیں کہ انہوں نے جو ایکوالیٹی کا تصور ہے وہ یہاں پے دیا تو اس طرح بہت سارے لوگ جو ہیں وہ سوفیز کی تعلیمات سے متاصر ہو کر دائرہ اسلام میں تاخل ہونا شروع ہو گئے تو جب سوفیز کے ہاں ایک یہ تھا کہ ہمینٹی کا کونسپٹ جو ہے وہ دیویل پورا تھا جیسے آپ دیکھیں جو انٹا چیبلز تھے یا جو پور پیبل تھے ان کے لیے انہوں نے

لنگر کا جو سسٹم میں وہ یہاں پے متارف کروائے اور ان سوفیز کی تعلیمات سے ان کے مطلب سے اور ان کے اٹیٹوٹ سے متاصر ہو کر لوگ مسلمان ہو گئے اب اس کے بعد یہ پورا ایک سنیریو جو ہے وہ چلتا ہے اس میں کیا ہوا کہ اس کے بعد ایک نیا دور start ہو جاتا ہے سوفیز کے بعد جس کو ہم reformers کا period کہتے ہیں جس میں مجدد الفسانی تھے شاوالی اللہ تھے اور سرسی رحمد خان تھے

یہ تین شخصیات جو ہے یہ reformers کے طور پہ ہمارا جو مسلم identity کو establish کرنے کا ایک جو period ہے وہ یہاں سے start ہو رہا ہے کیونکہ سوفیز کے ہاں کافی اسلام جو ہے وہ تقریباً more than half جو برسگیر ہے اس کے اندر اسلام پھیل چکا تھا لوگ مسلمان ہو چکے تھے لیکن کیا مسئلہ تھا کہ کلچرل جو ایک انٹریکشن تھی اس کی وجہ سے بہت

ساری چیزیں جو ہیں وہ مسلمانوں کے ہاں اور ہندووں کے ہاں وہ بہت ساری ایسی چیزیں جو کامن ڈولپ ہو چکی تھی کیونکہ یہاں پہ کاس سسٹم تھا اور جو مسلمان تھے جو سوفیز تھے وہ یہاں پہ لیکر آئے تھے آپ کے سامنے اسلامک سسٹم اب سسٹم جب دو سسٹم اپس میں انٹریکٹ کرتے ہیں تو دیفنیلی اس سے کیا ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کی جو چیزیں ہوتی ہیں اس کو

ابزارن کرتے ہیں کہ کاس سسٹم جو ہے وہ یہاں پہ سوفیز کو سب سے بڑا چیلن جو تھا وہ کاس سسٹم سے تھا اور جو اسلامک سسٹم سوفیز ساتھ لیکر آئے وہ یہاں پہ جو ہے وہ جب انٹریکٹ ہوا اس کے ساتھ کاس سسٹم کے ساتھ تو بہت سری جو اسلامک سسٹم کی چیزیں تھی وہ ہندو جو ریلیجن ہے اس کے اندر چلی گئی اور بہت سری ایسی چیزیں تھی جو ہندو ریلیجن سے مسلمانوں کے ہاں پینٹریٹ کر چکی تھی جیسے آپ کے سامنے دیوورس کی

اگزمپل ہے کہ دیوورس جو ہے وہ انڈیا کے اندر نہیں تھی وہ جو اسلامک سسٹم ہے وہ اپنے ساتھ دیوورس کا ایک انزام لیکر آیا تھا جس کو جو ہندو سسٹم ہے اس نے اس کو اکسپٹ کیا تھا اچھا پھر اسی طرح آپ دیکھیں کہ کوئی سسٹم جو ہے وہ مکمل طور پے نہ تو ختم ہوتا ہے نہ وہ نقام ہوتا ہے جس طرح کیزمپل آپ کے سامنے کہ کیزمپل اور کیزمپل نے جب آپس میں ایک دوسرق ساتھ

انٹریکٹ کیا تو آپ دیکھیں کہ فری ایڈوکیشن ہے فری ہیلٹ ہے اب یہ کیزمپل کے اندر یہ کیزمپل کے اندر یہ کارٹرسٹیکس موجود ہیں حالہکہ کپٹلیزم میں تو اس کا کوئی تصبر بھی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود جو فری ایڈوکیشن اور فری ہیلٹ یہ کیمونیزم سے کیپٹلیزم نے اس کو ابزارب کیا یا وہاں سے یہ ٹرینٹس لیے جس کی وجہ سے یہ سسٹم جو ہے یہ ایک نیا چیزیں جو ہے وہ ایک دونو سسٹمز ہیں انہوں نے ایک دوسرہ سے

اکسپٹ کیا اب اس کے بعد جب یہ یہاں پر یہاں پر جو رفارمس تھے انہوں نے یہ محسوس کیا کہ یہاں پر اسلام جو ہے وہ کافی پھیل چکا ہے لیکن یہاں پر ایک علمیہ یہ آ رہا ہے کہ مسلمانوں کے حان جو پیوریفکیشن ہے وہ نہیں ہے مسلمانوں کے حان بہت ساری جو چیزیں ہیں وہ ہندو مزد سے آ چکی ہیں جن کو ہمیں ریفارمز کرنے کی ضرورت ہے یا ریفارمز متارف کروانے کی ضرورت ہے تو اس سلسلے میں جو سب سے پہلے ہمارے سامنے

جو رول ڈیویلک ہوتا ہے وہ مجدہ دلف سانی کا ہے کہ مجدہ دلف سانی جو ہے وہ جب انہوں نے فیل کیا کہ ہمیں ایک پورا پرغام لانچ کرنا چاہیے جاکے ہم جو مسلمان لوگ ہو چکے ہیں ان کو ہم پیور اسلامک سسٹم کی طرف لے کرائیں اور جو اسلامک سسٹم ہے اس کی پوری ایمپلیمنٹیشن ہونے چاہیے کیونکہ اسلام جو ہے جو رلیجن ہے وہ کمپلیٹ کوڑا فلائف ہے وہ آپ کے ہر اسپیٹ کو کبر کرتا ہے

صرف ایک جو آپ کا فیت ہے یا آپ کی جو پریکٹسیز ہے صرف اس ساتھ تک وہ مہدود نہیں ہے بلکہ اس کا ایک اپنا کلوٹیکل سسٹم ہے اس کا اپنے ایک سوشل سسٹم ہے اس کا ایک ایک نومک سسٹم ہے تو ان ساری چیزوں کو برس گیر میں پروپر ایمپلیمنٹ ہونا چاہیے اب جس طرح کی ریفرمیشن مومنٹس مسلمانوں کے اندر چال رہی تھی اسی طرح کی ہی ہندو کے اندر بھی ریفارمس جو مومنٹس ہیں وہ لانچ ہو چکی تھی

جیسے بقتی کی مومنٹ تھی یہ ہندووں کے اندر چل رہی تھی اچھا اسی طرح مسلمانوں کے اندر جو ہے یہ جو میں نے آپ کو پہلے تین ریفارمس کے نام بتائیں جس میں مجدد علفسانی تھے شاوالیولہ تھے اور سرسی رحمد خان تھے اب یہ جو ہے یہ لوگ مسلمانوں کو پیر اسلامیک سسٹم کی ایمپلیمنٹشن کی طرف لے کر جو ہے وہ آرہے تھے اب مجدد علفسانی کے ہاں جو سب سے جو important

چیز ہمیں یہاں سے جو start ہوتی ہے وہ مسلم identity ہے کہ ہم نے مسلمانوں کی جو شناخت ہے اس کو برکرہ رکھنا ہے اس کو باقی ہم نے جو یہاں پہ ہندو کمیونٹی ہے یا سیخ کمیونٹی ہے ان سے ہم نے ان کو علک کر کے ان کی جو independent ایک identity ہے اس کو ہم نے establish کرنا ہے اب question یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ان کو ضرورت کیوں محسوس ہوئی انہوں نے یہ reforms کرنے کا جو program ہے

یہ انہوں نے کیوں لانچ کیا اس کے اندر ہم جب دیکھتے ہیں تو اس میں پہلے ہے political system political system جو ہے وہ بڑا ضروری ہونا چاہیے جس طرح آپ دیکھیں کہ political system کے اندر وہ تصور تھا ruler کا اب ruler جو ہے اس کے ہاں جو یہاں پہ مغل ruler رہ چکے تھے جو title تھے وہ استعمال کرتے تھے اب زیلہ علایی کا title جو ہے وہ مجدہ دل افسامی اس طرح کے titles کے خلاف تھے

انہوں نے کہا جی کہ ruler کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اندر fear of God ہونا چاہیے کہ جس ruler کے اندر fear of God نہیں ہوتا وہ ruler جو ہے اس کی مسلم identity ہے وہ مشکوک ہو جاتی ہے پھر اس کے بعد ان کا کہا تھا کہ جو governance ہیں نیچے ان کے اندر بھی fear of God ہونا چاہیے یہاں گا تو وہ مسلس کی طرف اتنا بھی اٹھر رویہ جو ہے وہ adapt کر سکیں گی پھر تیسرا اپ فکٹر تھا finance کا کہ جو یہاں سے لوگوں کے

ٹیکسس جو اکٹھے ہو رہیں وہ لوگوں پہ ہی مسلس پے اون ruler کو خرج کرنا چاہیے اس کو لوگ جو ہے وہ اس سے ایک بیتری کی طرف جائیں گے ان کے ایک نام ایک condition بیتر ہوگی اور اس کے بعد army of Islam کا تصبور تھا کہ جہاد کا جو concept ہیں کہ جہاد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ جو ہم ان کو اسلام کے سرکل میں شامل ہو سکنے۔ اب یہاں پہاں دیکھیں کہ بہت بڑا شفٹ آرہا ہے کہ سوفیز کے ہاں کوئی جہاہدی کلچر ہے

وہ سوفیز کے ہاں ہمیں اتنا کوئی پرومننٹ نظر نہیں آتا۔ بلکہ سوفیز کا انٹالرینس کا کونسپٹ ہے۔ کیونکہ اسلام پھلا ہی انٹالرینس کے ذریعے تھا۔ تو یہ ایک شفٹ تھا جو یہاں سے سوفیز کے بعد جو رفامت کی طرف آیا ہے اس میں جہاہدی جو کونسپٹ ہے وہ اس کے اندر نظر آ رہا ہے۔ پھر اس کے بعد سوشل سسٹم کو جب ہم انالیس کرتے ہیں دوسرا جو point ہے

یعنی پہلے پلوٹیکل سسٹم میں ہم نے دیکھا رولر اس کے بعد گورنر پھر فنانس اور last پہ آرمیا فیسلام یہ جو آپ کو چار چیزیں یہ آپ دیسکس کریں گے پلوٹیکل سسٹم کے اندر اس کے بعد سوشل سسٹم کی جب ہم آتے ہیں تو اس میں unity among Muslims کہ مسلمانوں کے ہاں جو ہے وہ unity ہونی چاہیے اگر وہ unity نہیں ہوتی تو پھر مسلمان

جو ہیں وہ ان کے ہاں جو ہے وہ فرقہ بنی سٹارٹ ہو جائے گی اور مزید problems جو ہیں وہ face کرنے پڑیں گے جس کی وجہ سے جو اسلامک سسٹم ہے اس کی پروپر implementation نہیں ہو سکے گی اس کے بعد سوشل سسٹم میں جو دوسری important چیز ہے وہ ہے equality آپ دیکھیں کہ اس سے پہلے جو untouchables کی ہم بات کر رہے تھے کہ ہندووں کے ہاں جنکہ ہم شودر بھی کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے آپ کو ایک deprived کلاس

میں احسوس کرتے تھے تو ان کے ہاں کیا تھا کہ equality کا اندر تصور دیا کہ مسلمانوں میں جو equality ہے وہ بہت ضروری ہے اور تیسرہ point ان کا تھا social justice کا اب یہ تین point جو ہیں یہ social system کے اندر آپ دیسکس کریں گے کہ unity among Muslims equality اور social justice آپ جب یہ تین چیزوں کم دیکھتے ہیں تو اس کے بعد ہمارے سامنے جو next point آتا ہے وہ آتا ہے economic system اب economic

system میں کیا ہونا چاہئے بیلسٹ ایکانومی ہونی چاہئے اس کے بغا علاوہ ٹیکسیشن effective ٹیکسیشن ہونی چاہئے regulate market ہونی چاہئے interest free economy ہونی چاہئے کے علاوہ no black marketing ہونی چاہئے آئے ethical issues کو اس میں دسکس کرنے کی ضرورت ہے حلال اور حرام کا جو concept ہے یہ چیزیں جو انہاں یہ اس کے اندر موجود ہونے چاہئے اب جب اس سسٹم کے اندر ابان نے میں آپ کے سامنے تین چیزیں رکھی ہیں یعنی

پہلہ political system جس کے اندر ruler governor finance اور army of islam اب یہ چار چیزیں جو ہیں وہ اگر fear of God کے گرد گھومیں گی تو it means کے یہ جو سسٹر might falls under islamic system اور دوسرہ کیا ہے دوسرہ social system اس کے اندر unity among muslims کی بات بھی پہلے نمبر پہ دوسرہ نمبر پہ equality کی بات ہوئی اور تیسرہ نمبر پہ social justice کی بات ہوئی اب یہ تین چیزیں

Frequently asked questions

دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ ٹریڈرز، انویڈرز اور سوفیز کے ذریعے پھیلی ہے۔

مجدد الفسانی، شاہ ولی اللہ اور سر سید احمد خان کو مصلحین کے طور پر مسلم شناخت قائم کرنے والے دور کا آغاز کرنے والا بتایا گیا ہے۔

مجدد الفسانی کے مطابق مذہب یا اسلام بطور مذہب خطرے میں نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری خدا نے خود اٹھائی ہے، البتہ نظام خطرے میں ہو سکتا ہے۔