Government College University Faisalabad · Transcript · · Updated
Lecture 04 – Transcript
Video by Government College University Faisalabad · Watch the original on YouTube
Summary
AI-generated from the transcript. Verify details against the source video.
- اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کی ہدایت کے واسطے اپنے انبیاء رسول اس دنیا کے اندر بھجوائے اور کتابیں بھیجنے کے ساتھ انبیاء کو بطور معلم بھیجا۔
- رسول اللہﷺ قرآن مجید کی تعلیمات اور احکام کی تشریح کرنے کے ساتھ تشریع کا کام بھی کرتے ہیں جس کے تحت قرآن کی تعلیمات کے حوالے سے قانون سازی فرماتے ہیں۔
- شریعتِ اسلامی میں حدیثِ رسولﷺ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے جو کہ قرآنِ مجید کی وضاحت اور تفسیر کرتی ہے اور انسانی ذہن کے اشکالات کا جواب دیتی ہے۔

Use this video with Pro
Reading, copying and transcript downloads are free. Create saved AI results for this video with a signed-in Pro account ($9/month).
Transcript
Search ignores accents. All transcript text stays visible.
اوز بالله من الشیطان رجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم لقد کانا لکم فی رسول اللہ اصبات حسانہ عزیزانِ گرامی اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کی حدایت کے واستے اپنے امبیاء رسول کو اس دنیاں کی اندر بجوائے اور بہتہ سرے امبیاء رسول کو اللہ تعالیٰ نے کتابیں بھی انائد فرمایی
جسے کہ آپ جانتے ہیں کہ مختلف امبیاء کو چار مشہور کتابیں انائد فرمایی گئی میری مراد ہے طورات زبور انجیل اور قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی پہ یہ احسان فرمایا کہ جب اس نے کتابیں اور صحف نازل کیے
تو ساتھ امبیاء کو بھی بطورہ معلم بھیجا یعنی اس کتاب کو سکھانے والا اور سمجھانے والا بنا کر بھیجا اللہ رب العزت نے ہماری حدایت کے واستے اپنا کلام قرآنِ مجید کی صورت میں نازل فرمایا
اور ساتھ حضرت محمد مستفاﷺ کو بھی ساتھ مبوث فرمایا کہ وہ اس کتاب کی ہمیں تعالیم دے دیں ہمیں یہ کتاب سکھا دیں اور ہمیں یہ کتاب سمجھا دیں تو اس اتبار سے رسولِ قریمﷺ کی اس دین کے اندر اس شریعت کے اندر
جیسے ہم دینِ اسلام اور شریعتِ اسلامی کہتے ہیں اس کے اندر رسول اللہﷺ کی ایک دستوری اور آئینی حصیت ہے اور یہ دستوری اور آئینی حصیت اللہ تعالیٰ نے خود مقرر کی ہے اور قرآنِ مجید میں یہ ارشاد فرمایا
یا ایوہ اللذینا آمانو عطی اللہ و عطی و وصول کہ اے ایمانوالو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی پیر بھی کرو سل اللہ علیہ وسلم اس طرح جس طرح کہ میں نے ابھی پہلے ایک معروف آئیتِ مبارکہ پڑی ہے کہ لقد کانا لکم فی رسول اللہ اس واتن حسانا
تو ان آیات سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ دینِ اسلام میں رسول اللہﷺ کی حصیت اللہ تعالیٰ کے ازن سے متعاقی ہے یہاں یہ بات یاد رکھیے کہ بنایدی طور پر متعزاد یعنی جس زاد کی جس حستی کی پیربی کی جائے وہ اللہ تعالیٰ ہے
وہحقی کی زاد جس کی پیربی کی جائے وہ اللہ رب پل عزت کی زاد ہے تو رسول اللہﷺ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے ازن سے نبی اور رسول ہیں اس واستے اس کے حکم سے اس نے اپنے ازن سے رسول اللہﷺ کو بھی متعاقیم کیا ہے
کہ ہم بتوری رسولﷺ ان کی اتات اور ان کی پیربی کریں تو اللہ رب العزت نے جو قرآنِ مجید کا نظول فرمایا ہے اس کی دستوری اور آئینی حصیت اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو ایک دستور اور ایک آئین کی صورت میں نازل فرمایا ہے
اور اس کی حصیت اسل العصول کی ہے اور آم لوگوں کو اس کے سمجھنے کے حوالے سے کچھ مشکلات پیش آتی ہے تو اللہ رب العزت نے ہمارے اپر یہ ایسان فرمایا کہ اس نے اپنے رسول کو مبؤوس فرمایا
ہمارے پاس بھیجوایا کہ وہ ہمیں نہ صرف کتابِ علاہی کو پرکے سنا دیں اس کی تعالیم دیں بلکہ اس کو سمجھا بھی دیں تو اس اعتبار سے رسول اللہﷺ کی دو حصیتیں ہیں نمبر ایک رسول اللہﷺ قرآنِ مجید کی تعالیمات اور احقام کی تشریح کرنے والے ہیں
یعنی قرآنِ مجید کے اندر جو چیزیں موجود ہیں رسول اللہﷺ ان کی توزیح کر دیتے ہیں ان کی شرع کر دیتے ہیں ان کی تفسیر کر دیتے ہیں اور ان کو آسان کر کے سمجھا دیتے ہیں اور اس حوالے سے رسول اللہﷺ کی دوسری حصیت یہ ہے کہ آپ تشریع کا کام کرتے ہیں
یعنی آپ قرآنِ مجید کی تعالیمات کے حوالے سے کچھ قانون ساجی بھی فرماتے ہیں مثلن قرآنِ مجید میں متدت مقامات پر اس طرح کی آیات آپ پڑتے ہیں جن کے اندر نماز قائم کرنے اور زکاد دینے کا حکم ہے
واقی مسلاتا و آتو زکاتا و رقعو و راقین اس طرح کی آیات سے ہر تعالی علم اور ہر مسلمان واقف ہے لیکن آپ سارے قرآنِ مجید کو دیکھ جائیں اس کی طلابت کر لیں کسی جگہا اس حکم کی ہمیں تفسیل نہیں ملے گی
زیادہ سے جیادہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کچھ مقامات پر کچھ آیات کی اندر وقاتو سلات کا یعنی نماز کے وقات کا اشارہ کر دیا ہے اب نماز کے متئیعن وقات کیا ہیں ایک نماز کا وقت کا بشروع ہوگا کب تک رہے گا ایک نماز کے اندر کتنی رکتیں ہیں اور ان رکتوں کے اندر کتنی رکتیں فرز ہیں
اور کتنی رکتوں کو ہم باتورے سنت عدا کریں گے اور نماز کی جو حیت ہے یعنی اس کی شکل وصورت ہے اس کو عدا کرنے کا طریقہ ہے وہ کیا ہے کیا ہم ایک نماز کے اندر کتنے ہوگے ایک نماز کے اندر ایک رکت کے اندر کتنے رکو ہوگے کتنے سجود ہوگے کہ عام کی حالت میں رکو کی حالت میں
سجود کی حالت میں تشاہد کی حالت میں کیا پڑھا جائے گا یعنی تقبیر تحریمہ سے لے کے سلام تک نماز کا جو طریقہ ہے وہ قرآن مجید کے اندر مجکور نہیں ہے اس کی تمام تر تفسیلات ہمیں رسول اللہﷺ کی آحادیت سے ملتی ہے رسول اللہﷺ ہی ہمیں پانچوں نمازوں کے اوقات بطلاتے ہیں
اور رسول اللہﷺ کی آحادیت سے ہی ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ ایک نماز کی کتنی رکاتیں ہیں اور ان رکتوں کے اندر کتنی رکاتیں فرض کی حصیت رکتی ہیں اور کونسی نماز سند کی حصیت کی حامل ہے ہر رکet کی اندر، کیام کی اندر کیا کش پڑھا جائے گا
لیکن اس کی تمام تر تفسیلات فروعات اور جوزیات کی تفسیل ہمیں رسول اللہ ﷺ کی آحاتی سے ملتی ہے۔ یہی معاملہ زقاد کا ہے۔ قرآنِ مجید میں بار بار ہمیں زقاد دینے کا حکم ملتا ہے اور معمین کے اصاف میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔
قرآنِ مجید کے صرف ایک مقام پر مسارفِ زقاد کا تذکرہ کر دیا گیا ہے اور آٹھ مسارف مطیئے کیا گئے ہیں۔ لیکن کتنے مال پر یعنی ایک آدمی کے پاس کتنا مال ہو اور اس کے اوپر زقاد کا فرز ہوگی اور جب زقاد فرز ہوگی تو کتنی شرا سے وہ زقاد کو نکالے گا۔
اور وہ کن کن لوگوں کو زقاد دے گا یہ تمام تفصیلات ہمیں قرآنِ مجید میں نہیں ملتی بلکہ یہ تمام تر تفصیلات ہمیں حدیثِ رسولﷺ کی اندر ملتی ہے۔ اور اس کی تشریق اور تشریق کا فریضہ بھی اس نے اللہ رسول اللہﷺ عدا فرماتے ہیں۔ یہی معاملہ حج کا ہے۔
کہ مہز حج کی فرزیت کا حکم قرآنِ مجید کے اندر ہے اور میں یہاں ایک واقع مختصر طور پر یہ ارز کرتا چلوں کہ جب حج کی فرزیت کی آیت نازل ہوئی تو کچھ صحابہ کے ازحان میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا ہر سال زل حجہ کے اندر حج کے دنوں میں حج کرنا فرز ہے یا کہ یہ زندگی میں مہز ایک مرتباہی کرنا فرز ہے۔
تو ایک صحابی نے رسول اللہﷺ سے یہ سوال پوشی لیا اور جب انہوں نے یہ سوال پوچھا تو اللہ کے رسولﷺ نے خاموشی اختیار پرمایئی
انہوں نے پھر پوچھا اور پھر پوچھا تو جب تیسری مرتباہ پوچھا رسول اللہﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ نہیں یہ زندگی میں مہز ایک مرتباہ صحبِ استطاد پر فرز ہے یعنی اس ساری گفتگو سے یہ معلوم ہوا کہ حدیث رسولﷺ کی اسلامی تعلیمات کے اندر اور شریعت اسلامیہ کے اندر بہت زیادہ اہمیت ہے
اور حدیث رسولﷺ ہی وہ بنایادی چیز ہے جوکہ قرآنِ مجید کی وزاحت کرتی ہے اس کی تفسیر کرتی ہے اور انسانی ازہان کے اندر جو اشکالات اور جو سوالات پیدا ہوتے ہیں ان کی وزاحت کرتی ہے
حدیث رسولﷺ اکسر اوقات قرآنِ مجید کے ہی معنو کی اپنے الفاز میں توزیح کرتی ہے
وہ ان ہی چیزوں کو ان ہی مفاہین کو ان ہی مزامین کو وہ بیان کرتی ہے اس کی توصیق کرتی ہے یا اس کی وزاحت کر دیتی ہے جوکہ قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر وارد ہوئے ہیں
حدیث رسولﷺ کی اهمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک دفعہ نبی اقدرﷺ کی خدمت میں ایک صحابی حاضر ہوئے
اور اس وقت صورِ نصا کی وہ آیات نازل ہو چکی تھیں جس میں کہ یہ واضح کیا گیا تھا کہ تم اس جانور کو بغیر زبح کیے کھا سکتے ہو جسے کے تربیت یافتہ کتے نے آپ کے لیے شکار کیا ہو