tubetranscript.io

Sana Ansari's Handbook · Transcript · · Updated

A Woman Who Has These 2 Qualities Can Make Her Husband Bend To Her Will💫 Nurturing Relationships – Transcript

Video by Sana Ansari's Handbook · Watch the original on YouTube

Summary

AI-generated from the transcript. Verify details against the source video.

  • پہلی نایاب خصوصیت عورت کا جذباتی استحکام اور طوفان میں خاموشی ہے، جو مرد کو اندر تک جھکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
  • جب عورت طوفان کے وقت باوقار خاموشی اختیار کرتی ہے اور ردعمل ظاہر نہیں کرتی تو شوہر کا غصہ اور غرور ٹوٹ جاتا ہے۔
  • دوسری نایاب خصوصیت عورت کا اپنی دنیا میں خود مختار ہونا ہے، جس سے مرد کے اندر خوفِ زیاں اور عزتِ نفس کا تحفظ پیدا ہوتا ہے۔
Video thumbnail: A Woman Who Has These 2 Qualities Can Make Her Husband Bend To Her Will💫 Nurturing Relationships
Source video on YouTube · Transcript generated automatically and may contain errors.

Use this video with Pro

Reading, copying and transcript downloads are free. Create saved AI results for this video with a signed-in Pro account ($9/month).

Transcript

Search ignores accents. All transcript text stays visible.

مرد کو دنیا کی کوئی تاکت کوئی دھمکی اور کوئی ہتھیار اتنی آسانی سے نہیں جھکا سکتا جتنا ایک عورت کی ذات میں چھپی ہوئی دو خفیہ تاکتیں اسے گٹنوں پر آنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ جب ہم سنتے ہیں کہ شہر کو جھکانا تو اکثر لوگوں کے ذہن میں آتا ہے کہ شاید کوئی بہت خوبصورت عورت ہوگی یا کوئی بہت تیزترار چلاک لڑاکہ عورت ہوگی جو شہر کو اپنے کابو میں کر لیتی ہے۔

لیکن سائکولوجی اور انسانی تاریخ گوہ ہے کہ مرد کبھی بھی حسن کی نمائش یا زبان کی تیزی کے سامنے دل سے نہیں جھپتا۔ وہ آرزی طور پر تو دف جاتا ہے لیکن مخلص کبھی نہیں ہوتا۔ تو پھر وہ کانسی ایسی دو باتیں ہیں جو اگر کسی عورت کے اندر موجود ہو تو جتنا بھی مغرور، سنگدل، لا پرواہ یا بدخلاق شہر ہو وہ اس عورت کے سامنے موم بن جاتا ہے۔ وہ اس کی ہر بات ماننے اور اس کی عزت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

سو آج کے بلوگ میں میں آپ کو صرف دو اُن نایاب خصوصیات کے بارے میں بتاوں گی جو ایک عام عورت کو مرد کی نظر میں ملکہ بنا دیتی ہیں۔ اگر آپ بھی اپنے رشتے میں تک چکی ہیں اور مرد کے دل میں اپنی سچی جگہ بنانا چاہتی ہیں۔ اور چاہتی ہیں کہ آپ کا شوہر پہلے کی طرحہ آپ سے محبت کرے، آپ کا احترام کرے اور آپ کی بات مانے تو آج کی ویڈیو آپ کے لیے لیے پہلے بہت امپورٹنٹ ہے۔

میں 100% کارنٹی کرتی ہوں کہ اگر آپ ان دونوں باتوں کو اپنی لائف میں امپورٹنٹ کرتی ہیں تو آپ کا شوہر آپ کی سب باتیں مانے گا اور آپ اسے آسانی سے اپنے کنٹرول میں کر لیں گی۔

آپ نے غور کیا ہوگا کہ کچھ اورتے اپنے شوہر کے ساتھ ہر وقت بحث یا لڑائی جھگڑا کرتی ہیں اپنی بات مانوانے کے لیے اونچی آواز میں بولتی ہیں۔ غصہ کا جواب وہ اس سے دیتی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اور کچھ اورتے ایسی ہوتی ہیں جو نہ تو بحث کرتی ہیں نہ اپنی طاقت کا شوہر مچاتی ہیں اور نہ ہی ہر وقت اپنے شوہر کو یہ احساس دلانے کی کوشش کرتی ہیں کہ وہ اس سے زیادہ سمجھ دار ہیں۔

لیکن ایسی اورتوں کے قردار ان کی خاموشی ان کی خودداری اور ان کے انداز میں ایک ایسی طاقت ہوتی ہے کہ ان کا شوہر خود ان کی بات سننے اور سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ تو دیکھتے ہیں کہ اورت کی وہ کانسی دو خفیہ باتیں ہیں جو اس کے شوہر کو آسانی سے اس کے سامنے جھکا سکتی ہیں۔ سو نمبر 1 is Emotional stability and silence in the storm یعنی جزباتی استہکام اور توفان میں خاموشی

پہلی بات جو شوہر کو اندر تک جھکنے پر مجبور کر دیتی ہے وہ ہے اورت کا جزباتی استہکام یعنی جزباتی طور پر اتنا مظبوط ہونا کہ مرد کے غصے اس کی خاموشی یا اس کی بتمیزی پر اپنا آپ نہ کھونا دیکھے مرد کی ایک فترت ہوتی ہے جب وہ غصے میں ہوتا ہے نا یا رشتوں سے بھاگ رہا ہوتا ہے تو وہ لاشہوری طور پر یا سب کونشیسلی

اورت کے ردے عمل یا ریاکشن کو دیکھ رہا ہوتا ہے وہ چاہتا ہے کہ آپ چیخیں چلائیں رویں اور اپنی کمزوری کا مظاہرہ کریں جب ایک اورت مرد کی کڑوی بات کا جواب اس سے زیادہ کڑوی بات سے دیتی ہے نا تو مرد کو ایک بہانہ مل جاتا ہے آپ کو قصور وارت ہے رانے کا لیکن وہ اورت جس میں یہ پہلی بات ہوتی ہے وہ توفان کے وقت خاموش رہنا جانتی ہے

جب شوہر غصے میں ہو یا اپنی انہ دکھا رہا ہو اکڑ دکھا رہا ہو تو وہ اورت اس کے سامنے گڑگیڑاتی نہیں ہے اور نہ ہی اس کے سامنے کھڑے ہو کر برابر اس سے لڑتی ہے وہ کانٹر اٹاک نہیں کرتی وہ ایک باوکار خاموشی اختیار کر لیتی ہے ردے عمل کا نا ہونا نو ریاکشن وہ شوہر کے سامنے یہ ظاہر کرتی ہے کہ تمہارا یہ غصہ یا یہ بے روخی یا یہ بتمیزی بدخلاقی میری ذات کو متاصر نہیں کر سکتی

شوہر جب یہ دیکھتا ہے نا کہ اس کے غصے کا اس کے نخروں کا اس کے بت زبانی کا یا اس کے سرد مہری کا اورت پر کوئی اسر نہیں ہو رہا تو اس کی انہ کا غوب بارہ پھس ہو جاتا ہے یعنی اس کی انہ کو ٹھس پہنچتی ہے وہ سوچتا ہے کہ میں نے اسے اتنا کچھ کہ دیا لیکن یہ آگے سے خاموش ہے اس پر کسی بات کا آسری نہیں ہوا احساسِ ندامت جب تفان تھمتا ہے تو مرد کو اورت کی وہ باوکار خاموشی یاد آتی ہے

وہ سوچتا ہے کہ میں نے اسے اتنی بت زبانی اور بدکلامی کر دیا لیکن اس نے اپنی عزتِ نفس کو گرنے نہیں دیا یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں مرد کا غرور ٹوٹتا ہے اور وہ اس اورت کی ذہنی پختگی یا مچورٹی کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہو جاتا ہے اچھا دیکھیں ہمارے گھروں میں ہمارے معاشرے میں بہت سی خواتین کی عادت ہوتی ہے کہ اگر شوہر گسے میں کوئی بات کہدے تو وہ فوراں اس کا جواب دینے لگتی ہے وہ پیچھے نہیں رہتی ہے

شوہر نے ایک بات کہی بیوی نے آگے سے دس سنا دی شوہر کی آواز انچی ہوئی تو بیوی کی آواز اس سے بھی زیادہ انچی ہو گئی پھر ایک بات سے دوسری بات نکلتی ہے پرانی شکائتیں سامنے آتی ہے ماضی کے جھگڑے دہرائے جاتے ہیں اور ایک معمولی سا اختلاف بڑی لڑائی میں تبدیل ہو جاتا ہے اب زرا سوچیں کہ اس ساری بحث کا سارے لڑائی جھگڑے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے دونوں کے دل دکتے ہیں time waste ہوتا ہے energy waste ہوتی ہے ایک دوسرے کے لیے تلخی بڑتی ہے

اور کئی مرتبہ ایسی باتیں بھی زبان سے نکل جاتی ہے جن پر بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے دیکھیں یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ ایک سمجھدار عورت اس موقع پر اپنے آپ سے یہ کہتی ہے کہ مجھے ہر بات کا جواب اسی لمحہ دینا ضروری نہیں ہے اگر میرا شوہر اس وقت غصے میں ہے تو میں پہلے محال کو پر سکون ہونے دوں گی میں اس کے غصے کو اپنے غصے سے بڑھاوں گی نہیں بلکہ مناسب وقت پر اپنی بات اسے سمجھا ہوں گی

دوسری بات جس سے آپ اپنے شوہر کو آسانی سے اپنے سامنے جھکا سکتی ہیں وہ ہے اپنی دنیا کی خود مختاری یعنی انڈیپینڈینسی دوسری بات جو مرد کو عورت کا اصیر بنا دیتی ہے اور اسے جھکنے پر مجبور کرتی ہے وہ ہے عورت کا اپنی دنیا میں خود مختار ہونا نفسیاتی زہنی اور جزباتی طور پر اکورڈنگ تو سائیکولوجی مرد اس عورت سے بہت جلدی اکتا جاتا ہے جس کی زندگی کا کل مقصد صرف اور صرف وہ مرد ہی ہو

وہ عورت جس صبا سے شام تک صرف یہی سوچتی ہے کہ اس کے شوہر نے کیا کیا وہ کہا گیا اس نے مجھ سے بات کیوں نہیں کی ایسی عورت مرد کی نظر میں اپنی کشش کھو دیتی ہے مرد کو لگتا ہے کہ یہ عورت میرے بغیر کچھ بھی نہیں ہے یعنی ان عورتوں کی زندگی صرف اپنے شوہر کے مہور کے گرد ہی گھومتی ہے اپنے مقصد سے محبت مرد اس عورت کے سامنے جھکتا ہے جس کے اپنے خواب ہوتے ہیں جس کا اپنا ایک لائف سٹائل ہوتا ہے جس کی اپنی سوچ ہوتی ہے

جس کے زندگی کا اپنا کوئی مقصد ہوتا ہے اور جو اپنی خوشی کے لیے مرد کی محتاج نہیں ہوتی چاہے وہ اپنے کریر میں مگن ہو اپنی کسی ہوبی میں ہو اپنے کسی ٹیلنٹ میں ہو اپنے کسی مقصد پر مہنت کر رہی ہو یا اپنے گھر بچوں اور خاندان کو سمبھالنے میں اتنی ماہر ہو کہ اس کی اپنی ایک علک پہچان ہو یعنی اس کے پاس کوئی نہ کوئی ہنر کوئی نہ کوئی مہارت یا ٹیلنٹ ہو کھونے کا خوف پیدا کرنا جب مرد کو یہ نظر آتا ہے نا

کہ یہ عورت مجھ سے محبت ہو کرتی ہے لیکن یہ میرے بغیر ادھوری نہیں ہے اگر میں نے اس کے ساتھ غلط کیا تو یہ میری زندگی سے نکل بھی سکتی ہے یہ اتنی امپاورڈ ہے کہ یہ اکیلے بھی خوش رہ سکتی ہے اسے اکیلے جینا آتا ہے تو مرد کے اندر ایک نایاب خوف جنم لیتا ہے جسے خوف ہے زیان ازت نفس کا تحفظ وہ عورت جس میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ اپنی ازت نفس اپنی سالف رسپیکٹ پر کبھی سمجھوطا نہیں کرتی

وہ مرد کو یہ باور کرا دیتی ہے کہ میری محبت تمہارے لیے حاضر ہے لیکن اگر تم میری ازت نہیں کروگے تو میری محبت بھی تمہارے لیے ختم ہوتی جائے گی مرد فتری طور پر اس چیز کے پیچھے بھاگتا ہے جو اسے مکمل طور پر قابو میں نہ آئے جو اسے مکمل طور پر نہ ملتی ہو جب وہ دیکھتا ہے کہ عورت ایک آزاد اور مزبوط رو ہے خود مختار ہے سٹرونگ ہے امپاورد ہے تو وہ اسے بڑا سمحال سمحال کر رکھتا ہے اور اس کی ہر شرط کے سامنے جھک جاتا ہے

دیکھیں ازرہ ایک بات ذہن میں رکھیں کہ مرد کو جھکانے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آپ اسے اپنا غلام بنالے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مرد کے دل میں اپنے لیے وہ مقام پیدا کریں جہاں وہ آپ کو کھونے کے تصور سے بھی کام پٹھے اور میری یہ بات بھی خور سے سنیں کہ مرد کبھی بھی کمزور رونے دھونے والی اور بار بار مننتیں کرنے والی عورت کے سامنے نہیں جھکتا مرد ہمیشہ اس عورت کے سامنے جھکتا ہے جو اپنے جزبار پر کابو رکھنا جانتی ہو اور جس کی اپنی self-respect ہو

self-esteem ہو دیکھیں جس عورت کی زندگی کا کوئی مقصد ہو کوئی ایم ہو اور وہ اس مقصد کو حاصل کرنے پر رہی ہو وہ ایک خود مختار عورت ہو تو ایسی اندپینڈنٹ عورت اپنے شوہر کو اپنی زندگی کا اہم حصہ سمجھتی ہے لیکن اپنی پوری پیچان صرف اس رشتے تک ہی مہدود نہیں رکتی کیونکہ وہ جانتی ہے کہ محبت کرنا ایک خوبصورت بات ہے لیکن اپنی ذات کو مکمل طور پر

بھلا دینا ضروری نہیں ہے اپنے زندگی کا کوئی مقصد نہ رکھنا ضروری نہیں ہے وہ اپنے رشتے میں موجود رہتے ہوئے بھی اپنی پرسنالٹی کو زندہ رکتی ہے فر اگر آپ کا شوہر کسی دن مسروف ہے کام زیادہ ہے کسی کام کی وجہ سے پریشان ہے یا پہلے کی طرح آپ کو طورجو نہیں دے پارا تو ایک خود مختار عورت اپنی پوری زندگی کو اس کی مسروفیت کے حوالے نہیں کر دیتی پلکہ وہ اپنے کاموں اپنے مقاصد اور اپنی دلچسپیوں میں بھی مسروف رہتی ہے

وہ اپنے شوہر سے وقت اور طورجو کی طورک کو رکھ سکتی ہے اپنی ضرورت کا اظہار بھی کرتی ہے لیکن اپنی زندگی کو مکمل طور پر اپنے شوہر کے روئیے کے طابق نہیں بناتی دیکھیں آخر میں یہ بات ضرور یاد رکھیے گا کہ جب آپ خود کو ایک کیمتی اور پریشیس یا نایاب انسان بنا لیں گی نا تو مرد تو کیا پوری دنیا آپ کی عزت کرنے پر مجبور ہو جائے گی اپنی ذات میں یہ دو باتیں ضرور پیدا کریں نمبر 1 اپنے جزبات کا ذبت

نمبر 2 اپنی زندگی کی خود مختاری پھر دیکھیں کہ آپ کا رشتہ کس طرح بدلتا ہے آخری بات زرا غور سے سنے کہ دیکھیں حقیقی کامیابی یہ نہیں ہے کہ شوہر عورت کی ہر بات میں حار مان لے یا ہر بات پر اس کے سامنے جھوک جائے بلکہ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ دونوں اپنی انا سے اوپر اٹ کر ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوششش کریں کیونکہ محبت میں صرف 1 شخص کا سبر کرنا کافی نہیں ہوتا صرف 1 شخص کا سمجھوتا کرنا بھی کافی نہیں ہوتا

دونوں کی کושش ضروری ہوتی ہے لہذا یہ جبکہ اپنی جانتان ویڈیو اچھی لگی ہو کوئی بھی نیو پویںد اگر آپ نے لرن کیا ہو تو یس ویڈیو کو لائک اور چیڑےگا ویڈیو کو ہی جانتا ہی جانتا ہی پیس دو سبسکریب اس ہی جانتے ہیں کہ سب کاملی جانتے ہیں ، حالا ان شاہی تک فتاہی تاہیے ، اپنے کاملی کے بارے میں پہلے ہیں ، آپ کو بھائیتے ہیں۔ اللہ حافظ۔ بھائیتے ہیں ، پہلے بھائیتے ہیں اور بھائیتے ہیں۔

Frequently asked questions

پہلی بات عورت کا جذباتی استحکام یعنی جذباتی طور پر اتنا مضبوط ہونا ہے کہ مرد کے غصے، خاموشی یا بدتمیزی پر اپنا آپ نہ کھویا جائے۔

جب عورت طوفان کے وقت باوقار خاموشی اختیار کرتی ہے اور ردعمل نہیں دیتی، تو شوہر کی انانیت کو ٹھیس پہنچتی ہے اور بعد میں اس کا غرور ٹوٹ جاتا ہے۔

دوسری خصوصیت عورت کا اپنی دنیا میں خود مختار ہونا، یعنی نفسیاتی، ذہنی اور جذباتی طور پر انڈیپینڈنٹ ہونا ہے تاکہ اس کی زندگی کا کل مقصد صرف شوہر نہ ہو۔