tubetranscript.io

Upsc Aspirants · Transcript · · Updated

Parinde q nhi ate, kankar q nhi girate best speech – Transcript

Video by Upsc Aspirants · Watch the original on YouTube

Summary

AI-generated from the transcript. Verify details against the source video.

  • تقریر کرنے والے نے اپنے موضوع کا آغاز اس سوال سے کیا کہ تخریب سے اپنے نشیمن خود پھونکنے کے بعد پرندے کیوں نہیں آتے اور کنکر کیوں نہیں گراتے
  • تقریر میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ قاتل اور مقتول دونوں مسلمان ہیں اور اب تو ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان سے ڈر لگتا ہے
  • مقرر نے لال مسجد کے درو دیوار مسلمانوں کے خون سے نہلانے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پس زندان ڈالنے جیسے واقعات کا ذکر کیا
Video thumbnail: Parinde q nhi ate, kankar q nhi girate best speech
Source video on YouTube · Transcript generated automatically and may contain errors.

Use this video with Pro

Reading, copying and transcript downloads are free. Create saved AI results for this video with a signed-in Pro account ($9/month).

Transcript

Search ignores accents. All transcript text stays visible.

میری تقریر کا معظو ہے ہم نے تخریب سے خود اپنے نشےمن پھونکے سدرعالی وقار سوچتا ہوں پر اندے کیوں نہیں آتے کنکر کیوں نہیں گراتے دیکھتا ہوں بندوک اٹھتی ہے گولی چلتی ہے چلانے والے کی آواز آتی ہے لا علاہہ اللہ اللہ

گولی جسن کے آر پار ہوتی ہے تو مرنے والے کے موسے سدہ آتی ہے لا علاہہ اللہ اللہ پر اندے کیوں نہیں آتے کنکر کیوں نہیں گراتے سدرعالی وقار علیہ وقار جب قاتل بھی مسالمان مقطول بھی مسلمان قاتل کا بھی وہی نارا جو مقطول کا نارا قاتل کا بھی وہی قاہبہ جو مقطول کا قاہبہ قاتل کا بھی وہی رب جو مقطول کا رب

قاتل کی ہے لائے گازی اور مقطول شہید تو پھر پر اندے کس کی بدت کو آئے قاتل کی یا مقطول کی کنکر کس میں گرائے کاتل پہ یا مکتول پہ تقریب کار پہ یا تقریب گزیدہ پہ ہا سدری دیوکار اسی لیے پرندے نہیں آتے کنکر نہیں راتے اور مفلی سے شہر کو دنوان سے در لگتا ہے پر نہ دنوان کو رہمان سے در لگتا ہے اب کہاں اساروں اخوبت و مدینے جیسی

اب تو مسلم کو مسلمان سے در لگتا ہے سدری آلی وکار جی تو چاہتا تھا کہ کشمیر فلسٹین چیچنیا بوسنیا افغانستان لہو لاشے کٹے بھٹے انسان اور نخون میں رنگی تار کول کی سڑکوں کی بات کرتا مگر سدری آلی وکار آج اس مباہی سے کے قوایدو زوابت کے مدابق میرے پاس بولنے کے لیے پانچ سے ساتھ منٹ ہیں

اور پانچ سے ساتھ منٹ میں تو اپنو کے لگائے ہوئے زخم دکھانا مشکل ہے اور ان کے کسے کیا چھول زیوکار میرا باظو ہم نے تقریب سے خود اپنے نشے منٹ ہوکے زیرے بہت کرار دات میں موجود لفظ ہم سے میری مراد میں آپ اسے وان میں موجود حر شخص اور نشے منٹ سے مراد اسلامی جہموریہ پاکستان ہے اس نشے منٹ کو اس ارزے پاک کو دنیا کے نقش پر لانے والا قائد اپنی زندگی کی آخری ساسے گندہا تھا

گاڑی دیر سے پہنچانے والے کون گرے بان میں جھاکے تقریب کار ہم خود ہیں سکودے دھاکا وطن دولکھت ایک آشیانہ دو حسوں میں باتنے والے کون گرے بان میں جھاکے تقریب کار ہم خود ہیں وطن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے سندو دیش پاکستان جاک پجابی جاک اور عظیم بلوچستان کا نارہ لگانے والے کون گرے بان میں جھاکے تقریب کار ہم خود ہیں گنٹیاں نہ بجاؤ میں یہاں سے چلا جاو گا

مگر میری آواز شورے سدامے گولس تو لینے دو سدری عالی وکار عالی وکار اپنا نشےمن تو ایک طرف خدا کے گھر لال مسجد کے درو دیوار کو مسلمانوں کے خون سے نہلانے والے کون گرے بان میں جھاکے تقریب کار ہم خود ہیں قوم کے سپود قوم کے نو جوان دوکٹر عبدال قدیر خان کو پسے زندان ڈالنے والے کون گرے بان میں جھاکے تقریب کار ہم خود ہیں اور عالی وکار

ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سبتقانوں کی شریکے جھرم نہ ہوتے تو مخمری کرتے شریکے جھرم نہ ہوتے تو مخمری کرتے سدری عالی وكار قاتل کوئی اور نہیں قسور وال کوئی اور نہیں دکھریب کار کوئی اور نہیں چھ clash ی لٹیر کو تصور کیجیے کہ معلوم کیا Radio کاتل کو یور ہے دکھریب کار کو یور ہے قسور وال کو یور ہے پھر میرا جلتا نشےمن سوال کرتا ہے کھضہنے خالی کون گر گیا

ام لاغ کس کیسے cumin کی اوڈے کس نے بھیچے درامدو برامداد کی آڑ میں ملک کلوٹ ترہا پر چم کا تقدس پائیمال کس نے کیا کراچی کی فٹباتوں پر حقیم سے ایک شہید مفتِ علامہ حضنترابی اور مفتِ شامضی کا خون کس نے بہایا منصفِ علا کو شہر شہر نگر نگر انصاف کا بھیگاری کس نے بنایا آئن کی دھجیاں اولانے والے کون ہے؟ آلی وکار میرا جلتا نشےمن سوال کرتا ہے

کیا تقریبکار میں بھی نہیں تقریبکار اگھڑ Emer you بھی نہیں قسورور میں بھی نہیں قسورور آپ بھی نہیں تو مرا جلتا نشquez مدحن سوال کرتا ہے میں کس کے ہاتھadaki پہاںلہوره انسان یقے تمام شہر نے پہنے ہوئے元ấy تمام شہر نے پہنے ہوئے元ấy صдیلی وکار empty no other امر ذاишь توی تقریبکار出來 no other onIRE

تخیب کاریوں سے اپنے ہی نشے من جلانے کی یہ داستانے میں کیا رکم کروں گا اس موضوع پر بات کرنا چی تو ایک آش ایک آش کیا بہت داوت ناما اس بڑے بام کو بھیج دیتے کہ جس نے اپنی اپنی آخو کے سامنے اپنے جوان بیٹے کو لال مسجد میں تیزاب سے جلتے دیکھا ایک آش ایک آش کیا بہت داوت ناما اس سوحاغت کو بھیج دیتے کہ جس نے کس کا سوحاغ میری ٹوٹل کے دھماکے میں

ایک آش ایک آش کیا بہت داوت ناما FIA کی بیٹنگ میں حلاک ہونے والے رفیق خان کی اس بیٹی کو بھیج دیتے کہ جو ابھی منتظر ہے کہ بابا چیوڈیا کب لائیں گے بابا چیوڈیا کب لائیں گے آلی وکار ایک آش ایک آش کیا بہت داوت ناما ایک داوت ناما سواد کیون معصوم بچوں کو بھیج دیتے کہ جو ملبے کے دھر تلے اپنی کتابیں تلاش کرتے ہیں اب'dی کرسیہ دلاش کرتے ہیں اب'dے بینچ دلاشتے ہیں وہ یہاں آتے nala o shevan

بلت کرتے اور بتاتے کے دخریب کار کوئی اور نہیں آتے گریازاری کرتے اور باتاتے کے دخریب کار کوئی اور نہیں آہو بکا کرتے اور باتاتے کہ دخریب کار کوئی اور نہیں معصوم بچے آقوں میں ایسو لے گرااتے اور بکار بکار کہتے کہہاں کہاں ہے رزو سماء کمالک کے چاہتوں کی رگے گورے دے حبز کی سrhی رخم بشہ کا بشہ کا حسین غازہ بنی ہوئی ہے ارے کوئی مسیحہ اتھر بھی دیکھے کوئی تو چارہ گری کو اٹھریں افق کا چہرہ لہو میں تر ہے

زمی جنازہ بنی ہوئی ہے زمی جنازہ بنی ہوئی ہے سدریالی وقار اگر اب بھی سوان میں کوئی کہتا ہے کہ دقریب کار کوئی اور ہے کسور وار کوئی اور ہے تو پھر میں ایک اس کے نام لکھو جو علم گزر رہے ہیں میرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں کوئی اور تو نہیں ہے پسے خنجر عزمائی ہمی قتل ہو رہے ہیں ہمی قتل کر رہے ہیں ہمی قتل کر رہے ہیں سامین

بزیرِ علا تقریری و تہریدی مقابلہ جاتھ پنجاب سے شرکت کرنے والے تمام تلبہ کی نمائندگی کرتے ہوئے میں سلام پیش کرتا ہوں اس سوچ کو کہ جس نے پاکستان کی اکسر سالا تاریخ میں سلام پیش کرتا ہوں اس سوچ کو جس نے پاکستان کی اکسر سالا تاریخ کے اندر پہی مرتبہ اتنی بڑے انعامی رکوم کے ساتھ ای مقابلہ مرکد کروائے اور تالیمی ایداروں میں دم توڑ دی ہوئی ان سرگرمیوں کو ایک بات پھر سے اجاگر کیا سلام

سلام ایک عام کے شہباز سلام ایک عام کے شہباز اے شہفر نشی گفتار تیرہ باسفار کردار دل نشی بہت بہت شکریہ

Frequently asked questions

تقریر کا موضوع ہم نے تخریب سے خود اپنے نشیمن پھونکے ہے اور مقرر نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ پرندے کیوں نہیں آتے اور کنکر کیوں نہیں گراتے۔

مقرر نے ذکر کیا کہ لال مسجد کے درو دیوار کو مسلمانوں کے خون سے نہلایا گیا۔