Mystic Rumi · Transcript · · Updated
Masnavi Explained | Timeless Sufi Wisdom of Rumi | Episode 5 – Transcript
Video by Mystic Rumi · Watch the original on YouTube

Use this video with Pro
Reading, copying and transcript downloads are free. Create saved AI results for this video with a signed-in Pro account ($9/month).
Transcript
Search ignores accents. All transcript text stays visible.
ابن بطوتا اور دیگر تاریخی حوالوں سے شاہ شم سے تبریز اور مولانا رومی کی پہلی ملاقات کے جو حایوال ہم تک مہشے ہیں ان میں سب سے موتبر حوالہ سپا سالار کا ہے جو تقریباً چالیس سال تقصوبت رومی سے فیزیاب رہے ہیں ان کے مطابق شاہ شم سے تبریز کمال اور دین کے مریت تھے اور ایک تاجر کے طور پر زندگے گزار دے تھے جبکہ وہ علو میں ظاہری اور باطری سے بھی فیزیاب رہے ہیں
ایک روز انہوں نے خدا سے دعا کی کہ کسی ایسے شخص سے ملادے جو ان کی سوہبت کے قابل بھی ہو اور ان کی سوہبت کا متحمل بھی ہو اشارہ ہوا کہ روم چلے جاو اس کے بعد شاہ شم سے تبریز سے روم آئے وہاں پر مارکٹ میں ایک بیٹھک ستی تھی جس میں کونیا کے امراجمہ ہوا کرتے تھے
شاہ شم سے تبریز بھی اسی بیٹھک میں بیٹھنے لگے کسی طرح مولانا رومی کو بھی ان کی آمت کا احوال معلوم ہوا تو ان سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے کہتے ہیں کہ دونوں کی آنکھیں چار ہوئی تو پیر اور مری دونوں ایک دوسرے کے احوال جان گئے مولانا رومی کے علم دینی کا اس وقت کونیا میں بہت چھا تھا
شاہ شم سے تبریز نے مولانا کی اازمائش کرنے کے گر سے ان سے حکمت دین کے حوالے سے کچھ سوالات کیئے جن کا جواب مولائی روم نے دیا کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد شاہ شم سے تبریز اور مولانا رومی چالیس روز تک ایک جگہ پر چلا کش رہے اور ان چالیس دنوں میں دونوں نے کچھ کھایا نہ پیا کسی کو بھی اس جگہ جانے کی اجازت نہ تھی جہاں یہ دونوں عظیم حضرات بیٹھے تھے
اس چلے کے بعد رومی وہ رومی نہ رہے ان کے اہوالے بات نہیں بدل گئے اس سے پہلے وہ سما اور قوالی سے ہتراز کرتے تھے ان کو سننا اچھا خیال نہیں کرتے تھے مگر اس چلے کے بعد وہ مسلسل سما کی محفر سننے لگے مولانا رومی نے درس و تدریس اور فتوہ نویسی کو تر کر دیا اور چو بیس گھنٹے شاہ شم سے تبریز کے ساتھ رہتے
کہا جاتا ہے کہ اہلے کونیاں کو مولانا رومی کی اس حالت سے بہت رانج تھا شہر ان کا گرویدہ تھا اور رومی اس شہر سے اس کے لوگوں سے کٹتے جا رہے تھے اہلے کونیاں نے تفیصلہ کیا کہ وہ ہر قیمت پر اپنے محبوب عالم دین کو واپسی دنیا میں لائیں گے یوں املن پورا ہی شہر شم سے تبریز کا دشمن ہو گیا
شاہ شمس کو بھی حالات کا پتا چاہ چکا تھا اور اسی وجہ سے انہوں نے شہر کو چھوڑنے کا فیصلہ کر دیا وہ کونیاں چھوڑ کر دمشک چلے گئے مولانا رومی کے لیے اپنے پیر سے یہ جدایی ناقابلے برداش ثابت ہوئی وہ اداس رہنے لگے اور اسی عالم اداسی میں وہ شیر کہنے لگے شاہ شم تبریز کے جانے کے بعد جو مولانا رومی کی حالت ہوئی اس سے شہر والوں کو پرشانی بھی ہوئی اور ندامت بھی
ان کی وجہ سے مولانا رومی کی یہ حالت ہوئی ہے فیصلہ کیا گیا کہ کہی سے شم سے تبریز کو دھون لائے جائے اور پیر تبریز اور مرید روم کو پھر ملایا جائے رومی کے بڑے بیٹے کی قادت میں کافلے کو دمشک پھیجنے کا فیصلہ کیا گیا کہ وہ شاہ شمس کو واپس لائے اس موقع پر رومی نے ایک منظوم خط بھی لکھ کر دیا اور کہا کہ ایک خط میرے پیر کو دینا اور ان سے واپس کونیا آنے کی درخاص کرنا
جب شاہ شمس نے وقت پڑھا تو بڑے متاثر ہوئے اور انہوں نے واپسی کا فیصلہ کرنی ہے تاریخی حوالے بتاتے ہیں کہ اس کے بعد وہ دو سال تک کونیا میں مولانا رومی کے ساتھ مقیم رہے اس کے بعد شاہ شمس تبریز کے ساتھ کیا ہوا اس کے حوالے سے کافی ریوائات اور تاریخی حوالے تو موجود ہیں مگر کوئی بھی آج تک مستنہ تسلیم نہیں کیا گیا ہے
رومی آج مشہرے کو مغرب نونو تحضیبوں کی جانی پہچانی شخصیت ہے شاہد وہ مقام جو کسی بھی مسلم سوفی شاہر کو اس سے پہلے آسن نہیں ہوا اور مشہرے کو یا مغرب جو بھی شخص رومی کو جانتا ہے وہ شاہ شمس تبریز کو نہ بھی جانتا ہو تو بہرال ان کا نام اس نے ضرور سنا ہوگا ان دونوں کا بہمی تعلقہ کتنا ناقابلہ انکار ہے
کہ وائی رنیجن میٹرز کے مشہورے زمانہ مصنف سمت جیسے دانتی اور بیٹرز کی محبت کا ذکر کرتا ہے بالکل اسی انداز میں وہ رومی کی شمس تبریز سے محبت کو بیان کرتا ہے رومی کی تمام شاہری میں شاہ شمس کا ذکر مسلسر اور مستقل جاری رہتا ہے مگر ان کے بہمی تعلق کی گوچیاں شاہد آج تک کوئی بھی انسان نہیں سلجھا بایا ہے یہ بات ناقابلہ فہم سی لگتی ہے کہ کیسا ریوائیتی آلن
جو ہر لحاظ سے شہرہ تو عزت و مقام کے بلند ترین مرتبوں پر فائستہ وہ کس طرح اچانہ کہ کیسے شخص کا دیوانہ ہو گیا جس کا ریوائیتی مذہبی تو طریقوں اور عبادات سے کوئی لینا دینہ تک نظر نہیں آتا اب سوچیئے کہ شمس تبریز کی شخصیت کیسی ہوگی کہ اپنے وقت کا مشہور ترین ہر دل عزیز ترین اور کامیات ترین زندگے گزاننے والے مولانا رومی ان پراشک ہو گئے
آپ کو ایک دلچس بات یہاں بتاتا چنوں کہ مولانا رومی کا سب سے بڑا اور طویل کام اماماً مسنوی کو مانا جاتا ہے لیکن مسنوی میں 25000 اشار ہیں جبکہ ان کی کتاب دیوانہ شمس تبریز جیس میں انہوں نے شاہ شمس تبریز کے خیال کو اپنے شائلی کا موضوع بنایا ہے وہ 40000 اشار پر مشتمل دیوانہ شمس تبریز اصل میں تصف وف کی تاریخ کا ایک اہب ترین واقعہ ہے
کہ جس میں مورید روم نے خود پیر تبریز کا پیرہن پہن کر شیر بکے ہیں اگر دیوانہ شمس تبریز کو دیکھیں تو بلا شبا وہ خدا کی محبت اور اس کی حمد سناقہ بیان ہے مگر اس میں شاہ شمس تبریز کو کہیں بھی ایک انزان کے طور پر پیش نہیں کیا گیا ہے نہ ہی کسی بزرگ عطات کی شکل میں بلکہ انہیں ایک ایسی شخصیت کے طور پر مولانا رومی نے پیش کیا ہے جو بزاد یہی شعوری عالہ ہے
سب وف زندگی کو واحد کل کی شکل میں دیکھنے کا ایک نظریہ ہے اور دنیا کے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے سوپیوں کی تعلیمات کو اٹھا کر دیکھنے ان میں جو بنیادی فلسفہ ہے وہ ایک ہی ہوگا وحدتِ حیات کا نظری ہے مولانا رومی اسی وحدتِ حیات کو اپنے پیر شاہ شمس میں مجسم کر کے پیش کرتے ہیں
مررخین کے مطابق 11 اکتوبر 1224 وہ دن ہے جب شاہ شمس تبریز کونیا میں وارد ہوئے اور یہ تاریخ محفوظ راہ جانے کی وجہ وہ واقع ہے جو اسی دن ہوا متعدد تاریخی عالے یہ بتاتے ہیں کہ جس رکشم سے تبریزی کونیا میں آئے اس وقت ان کی عمر سات سال تھی جبکہ مولانا رومی اس وقت صرف 37 سال کے تھے بازار میں ان دونوں عظیم حستیوں کا آمنا سامنا ہوا
وشاہ شمس نے مولانا رومی سے سوال تیا کہ اس بات کو کیسے سمجھائیں گے کبائے زید بستامی تو کہتے ہیں کہ میں عظیم ہوں اور میرے جببے میں خدا ہے جبکہ حضور خود کو عبدالله اللہ کا علام کہتے تھے کہتے ہیں کہ اس سوال سن کر ہی مولانا رومی پر حال کی کافیت تاری ہو گئی یہ سوفیوں کی روانی دنیا سے مولانا جلال و دین کا پہلہ رابطا تھا
اور اس پہلے ہی دن کے بعد مولانا رومی شاہ شمس کی محبت میں گرفتا رہ گئے آئیے اب چلتے ہیں مسنوی کی طرف اگلہ انوان ہے عدب کی برکت اور بے عدبی کی نحوست عم خدا سے عدب کی توفیق کے جویا ہے کہ بے عدب ہمیشان خدا کے فضل سے محروم رہا بے عدب نہ صرف خود کو خراب کرتا ہے
پلکہ وہ اپنے ارد گرد موجود محول میں بھی آگ لگا دیتا ہے دیکھتے ہو ان کے لئے آسمانس سے کھانا اترتا تھا بے خریدے بیچے بے کہے سنے مگر قوم موسا میں سے کچھ تھے بے عدب جنو نے کہا لیسن اور مسور چاہیئے تو کیا ہوا کہ آسمان سے ان کا خورو نوش پند ہو گیا
اور ان کے قیسے میں بس قدال درانتی اور خیتی کا غم رہ گیا پھری سارے خدا سے سفارش کی تو خدا نے مالے غنیمت کی شکل میں خان بھیجا آسمانس سے خان اترنے والا ہو گیا کیونکہ خدا نے کہا دیا کہ ہم آسمانسن پر اترنے گے خان مگر پھر گسٹا خون عدب کو چھور دیا اور بھی کاریوں کی طرح بچے کھچے پر لڑنے لگے
ایسان نے ان کو نرمی سے سمجھایا ای دیکھو یہ انعام قیامت تک ہے کبھی نہ جائے گا بدگمانی کرنا اور لالچ کرنا شاہوں کے دستر خان پر ایسی حرکتیں نہ شکری کہلاتی ہے لالچی چہرے والوں اور نہ دیدہ لوگوں کی وجہ سے وہ رحمت کا درواز آون پر بند ہو گیا زکات نہ دینے سے بارش روش جاتی ہے اور زناہ سے بیماریاں پھر دی ہے
تج پر جو گم کی ظلمتِ چھائی ہے یہ بیباقی اور گستاخی ہی کے سبب سے ہے جو بھی شخص دوست کی راہ میں بیباقی کرتا ہے وہ مردوں کا راہزن ہے اور نہ مرت ہے یہ فلق روششن ہے عدب کی وجہ سے فرشتِ ماسوم و پاک ہیں عدب کے سبب سورج گرن گستاخی کی وجہ سے ہوا
اور شیطان گستاخی کی وجہ سے مردودِ بارگا ہوا ان اشار میں رومی کا تصور عدب واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے تصور بف میں عدب ایک مرکزی تصور ہے اگر چیس لفظ عدب کو جس طرح ہم لوگ استعمال کرتے ہیں اس کا اس عدب سے کوئی لینا دینا نہیں جس کی بات مولانا رومی کر رہے ہیں رومی دوائی انداز میں کہتے ہیں کہ خداہ میں عدب کی توفیق دے
کیونکہ بی عدب ہمیشہیں خداہ کے فضل سے محروم رہتا ہے بی عدب صف اپنے لیے ہی تباہی رہی لاتا بلکہ اپنے ارد گرد کے لیے بھی مسیبت کھڑی کر دیتا ہے موسا کی قوم پر آسمان سے من و سلوہ رازل ہوتا تھا مگر وہ بی عدب ہو گئی اور کہنے لگی کہ ہمیں یہ آسمان خان نہیں چاہیے ہمیں تو لسن اور مسور کی دال چاہیے اس گستاخی اور بی عدبی کی سذاہ خداہ نے یہ دی
کہ من و سلوہ کا آسمان سے نازل ہونہ روکیا اور قدال درانتی اور خیتی کی دنیا داری ان کا مقدر ہو گئی یہ ہی حال قوم ایسا کہ ہوا کہ خداہ نے مالے غنیمت کی شکل میون پر اینام بھیجا مگر وہ لالج میں پڑھ گئے بچے کھچے پر لڑنے لگے ان گستاخوں نے عدب کو ترک کیا اور بی عدبی کو اپنے لیے چن لیا ایسا نے انہیں کہا بھی کہ لالج میں نہ پڑھو یہ جو تم پر نیمت ہیں
یہ قیامت تک کے لیے ہیں پدگمانی اور لالج میں نہ پڑھو کہ شاہوں کے دسترخان پر یہ چھوٹی حرکتیں زیب نہیں دیتی مگر وہ قوم باز نہ آئی اور خدا کی رحمت کا دروازہ بند ہو گئے رومی کہتے ہیں کہ زقات اور سدقات جو ماشرے رہی دیتے ان پر خدای رحمت کا دروازہ بند ہو جاتا ہے جنسی بیراہ روی کسی ماشرے میں پھیل جائے
تو وہ ماشرہ بیماریوں کے نرگے میں آجاتا ہے رومی کہتے ہیں کہ انسان اگر تو دوکی ہے اگر گم کی مسیبت میں گرفتار ہے تو اس کی وجہ کچھ نہیں برکہ تمہاری گستاخی اور تمہاری بیباق کی ہے اس کی وجہ جو بھی شخص دوست کی رحمِ بیباق کو آبو نہ مرت ہے آسمان کو دیکھتے ہو کتنا روشن ہے اسی وجہ سے روشن ہے کہ اس نے عدب کیا فرشتے کیوں آسوم اور پاک ہیں
کیوں کہ انہوں نے عدب کیا سورج کو جب گرہن لگتا ہے تو اس کی وجہ ہوتی ہے گستاخی اور جنوں میں سب سے زیادہ اطاعت گزار آزازید شیطان کا لقب کا حقدار بنتا ہے تو اس کی وجہ بھی ہی گستاخی اور بیباقی ہے میں نے پہلے بھی کہا کہ تصوف عدب کو جنمنوں میں استعمال کیا جاتا ہے وہ وہ مترب نہیں ہے جو ہم آمانوں میں دیتے ہیں آمانوں میں عدب سے مراد لیتے ہیں
چھوٹے کا بڑے کو احترام دینہ شاگیرت کا استاد کو مرید کا پیر کو مقتدی کا امام کو عوام کا حکمران کو مقتدی کا مائر کو احترام دینہ تو سب وف میں عدب سے مراد ہے کہ قائنات کی لیویں فورز کے ساتھ خود کو ہم آہنک کرنا اس شراتِ مستقیم پر ہونا جیس کا علم آپ کے اندر ہمہ وقت موجود ہے زندگی کی بنیادی نیچر میں وننے سے قائنات وعدت ہے
پس دماغ ہمیں بانٹ کر دکھاتا ہے اس قائنات میں صرف ایک چیز زندہ ہے جسے صفی خدا کہتا ہے زندگی جسمی چیز میں اس میں جو جوہر ہے وہ ایک ہے صفی اسی کو وعدت الوجود کہتے ہیں جب آپ کے اندر موجود مقامِ شور اس کول شور سے ہم آہنگ ہوتا ہے تو کوئی چیز زندگی کی ایسی نہیں ہوتی جس کو آپ بدلنا چاہیں کچھ ایسا نہیں ہوتا جس پر آپ کو غصہ