Mystic Rumi · Transcript · · Updated
Masnavi Explained | Timeless Sufi Wisdom of Rumi | Episode 19 – Transcript
Video by Mystic Rumi · Watch the original on YouTube
Summary
AI-generated from the transcript. Verify details against the source video.
- مولانا رومی فرماتے ہیں کہ اولیاء اللہ اللہ کا سایہ ہوتے ہیں جو آفتابِ خدا کے نور کی دلیل ہوتے ہیں
- مولانا رومی کے مطابق راہِ حقیقت کی طرف چلتے ہوئے جو سب سے بڑی گھاٹی ہو سکتی ہے وہ حسد ہے
- مولانا رومی کہتے ہیں کہ وزیر نے نقصان تو یہودیوں کو پہنچانے کی کوشش کی تھی مگر خود کو کان اور ناک سے محروم کر لیا

Use this video with Pro
Reading, copying and transcript downloads are free. Create saved AI results for this video with a signed-in Pro account ($9/month).
Transcript
Search ignores accents. All transcript text stays visible.
بے گمان ہو کر اس کا دامن فاملے دا کے بعد کی زندگی کی مسیبت سے نجات پائے کیف مدزل سے مراد ہے عولیاء کا نقش خدا کا خورشید اس کے نور کی دلیل ہے
اس وادی میں بے رہنماء نہ چل جا اور سائے سے سورج کا شکار کرلے سائے سے سورج کی روشنی تک پہنچ شاہ شم مستبرزی کا دامن فاملے تجہ اگر اس خوشی اور مستی کا معلوم نہیں تو جا از یا اول حق حسام الدین سے پوچھ لے
اگر اس سفر میں حصد ترے گلے پڑے جیسے حصد نے شیطان کو حد سے تجاوز کرنے والا بنا دیا اس نے آدم کو حصد کی وجہ سے اپنی ذلت کا سبب جانا اس راہ میں حصد بڑی سخت گھاٹی ہے خوش نسیب ہے وہ جو حصد نہیں
جب بدن کے خانے میں حصد کی آمد ہوتی ہے تو خاندان اس سے عالودہ ہو جاتا ہے اگر چے یہ جسم حصد کا گھر ہو سکتا ہے مگر اللہ نے اسے بہتی پاک بنایا ہے تم دونوں میرے گھر کو پاک کرو قرآن کی آیت پاکی کا بیان ہے یہ نور کا خزانہ ہے اگر چے گھر مٹی کا ہے
بے حصد سے تیرا حصد اور مکر اس سے تمہارے دل میں سیاہی پیدا ہوگی مردان احب کے پیر کی خاک ہو جا کسی بھی قسم کے حصد پر مٹی دال بادشاہ کے وزیر کا خمیر حصد کی مٹی سے اٹھا تھا تبھی تو بیسودی اس نے اپنے قان و ناک کتھوائے
اس کیو امید تو یہی تھی کہ حصد کا دنک وری بیہودیوں تک پہنچ پائے گا جو حصد میں جل کر اپنی ناک خوتا ہے کیا درکنا وہ خود ہی ناک کان کتا ہوگا ناک تو بس وہی جو سراہ کو سنگھیں بو اس کے کچھے کی طرف لے جائے جو بو نہ سنگھ پائے وہ ہے بے ناک
اور بو وہ ہے جو دین کی بو ہو بو سنگھیں اور اس کا شکر نہ کیا تو یہ کفرانِ نیمت اس کی ناک کو کھا گیا شکر کر اور شکر گزاروں کی غلامی کر ان کے سامنے مردہ بن اور عمرِ طوام حاصف کر وزیر کی طرحا رہزنی کا سامان نہ کر لوگوں کو نماز سے نہ روک وہ کافر وزید دین کا وائز بن گیا
اس نے فرب سے حلوے میں لحسن ملا دیا اہلِ دل اس کی گفت گو سے لزت تو پاتے اگر ساتھ ملی تلخی بھی وہ باتوں میں ملاوت کرنے والا تھا گلاب اور شکر میں زہر ملا تھا ظاہری زبان مارفت کی بات کرتی تھی مگر اصر اس کا الٹا سوست کرنے والا تھا جیسے چاندی بزاہر سفید اور روشن ہے
ہاتھ اور کپڑے مگر اس سے سیاہ ہو جاتے ہیں آگ اگر چے شراروں کے سبب صور خرو ہے لیکن تو اس کے کام کی سیاہ کاری دیکھ بجلی اگر چے نگاہ کو نور دکھائی دیتی ہے لیکن اپنی فترت میں وہ بینائی چھین لینے والی ہے ساہبِ زوک اور باخبر آدمی کے علاوہ جو بھی تھا اس وزیر کی گفت گو اس کے لیے تاک تھی
بعد شہ سے چھے سالہ دوری میں وزیر اسائیوں کی پناہ ہو گیا لوگوں نے دین اور دل اس کے سپورت کر دیا اس کو لوگ دلو جانس سے ماننے لگے گزشتہ ایپی زورت کے آخری شیر میں مردِ مومن مردِ حق کا نقشہ بتاتے ہوئے مولانا رومی نے فرمایا تھا کہ بندہ خدا خدا کا ساہہ ہوتا ہے ایک بات کو سمجھیں
ساہہ بزاہتے ہی کچھ نہیں ہوتا مگر یہ کچھ نہیں بھی کچھ ہے کی طرف اشارہ ہوتا ہے ساہہ ہے نظر آ رہا ہے تو بدن ضرور ہو گا اساہہ بدن کی دلیل ہے بندہ خدا بھی ایسے ہی خدا کے وجود کا سبوت ہوتا ہے خرونی آج کے ہمارے پہلے شیر میں فرماتے ہیں کہ ایسا کوئی بندہ خدا ملے
کوئی ولی اللہ ملے تو اس کا دامن کسی شک میں پڑے تھام لےنا جیسے کرن کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی مگر کوئی اسے تھام لے تو سورج تک جا پہنشتا ہے اسی طرح بندہ خدا کا وجود آرزی ہے کرن جیسا ہے جو شام کو زندگی کی شام کو فنا ہو جائے گا مگر یہ ساہہ پکڑ کر بھی تم بدن تک پہنچ سکتے ہو اس کرن کو تھام کر
سورج تک پہنچا جا سکتا ہے کسی بندہ خدا کسی سچے مرشد کا ہاتھ فام کر تم حقیقتِ ازلی کی جلک پا سکتے ہو اگلے شیر میں مورانا اسی تصور کی مزید وضاعت کرتے ہوئے کہتے ہیں اولیاء اللہ اللہ کا ساہہ ہوتے ہیں جو آفتابِ خدا کے نور کی دلیل ہوتے ہیں بجات و براہر آس سورج کے نور کو نہیں دیکھ سکتا
مگر کرن کے ذریعے خدا کے ہونے کی دلیل تو پا سکتا ہے خدا کے سورج کے ہونے کی دلیل تو خدا کو براہر آس نہیں جانسکتا تو اس کامل مومن کو دیکھ وہ ایسا خود ہے جو خدا کے سبوت کے طور پر تیرے سامنے ہیں یہ کرن کیا تم اس سورج کا پتہ نہیں دیتی حقیقت کی تلاعش ایسا سفر نہیں کہ جس میں تو تنہات چل پڑے
سورج کو پکرنے نکلنا ہو تو کرن کو تھامنا براہر آس سورج تک پہنچنے کی خائش ہے تو تو جل جائے گا رومی فرماتے ہیں اس رہا پے چلنا ہو تو بے رہنو مانا چلنا بے مرشد حقیقت کے رستے تائے نہیں ہوتے کہیں جانا ہو اور منزل معلوم نہ ہو تو ایسے بندے کو تھام لینا جو اس منزل سے ہو آیا ہو
اب تمہرہ رستہ آسان ہوگا اور منزل یقینی رومی فرماتے ہیں زمین پر سائق کا پننا سورج کی وجہ سے ہے سورج کو پانا چاہتے ہو تو جاؤ سائق کو پکڑو خدا تک جانا چاہتے ہو تو جاؤ خدا کے سائق کو کسی مرشد کو تھامو جا اور کسی شم سے تبرس کو تھام کہ جو تیری آنا کے سب راز کھول دے تیری نید کو توڑ دے
تیری سرابوں سے تجی آزاد کر دے یاد رہے کہ شم سے تبرزی وہ فقیر ہیں جو مولا نرومی کے مرشد ہیں مولا نرومی کو علم کے دشت سے حقیقت کی سبزا زار تک لانے والی شخصیت شم سے تبرزی کی ہی ہے مولا نرومی کہتے ہیں کہ سورج کو پانا ہے تو سورج کا سایا ہے شم سے تبرز جا اس کا دامن تھام لے وہ تو جس سورج تک پہنچا دے گا جیسے سایا سورج تک پہنچا دیتا ہے
جیسے کیرن آفتاب تک پہنچا دیتی ہے اور تجے سبود چاہی ہے نا کہ کترا کیسے سمندر تک پہنچتا ہے کیرن کیسے سورج تک پہنچا دیتی ہے سایا کیسے وجود تک پہنچا تا ہے اگر تجے سرور اور خوشی کا پتہ نہیں تو میں تجے کیسے شخص کا پتہ دیتا ہوں جس نے یہ واقع ہوتے ہوئے دیکھا ہے جا تو زیا علحق حصام الدین سے پوچھ لے
زیا علحق حصام الدین وہ شخص ہے جو مولانا رومی پر روحانی واردات گزرتے لماہات کے گواہ ہیں جب رومی اپنی قیفیت میں ہوتے تھے تو شیر پڑھتے تھے جیہاں وہی شیر جو بعد میں مثل بیے مانوی کی شکل میں جمع ہوئے یہ سارے شیر زیا علحق حصام الدین لکھا کرتے تھے یہ تو ان کا کام تھا وہ اس مصرط اس حال اس وجد اس مستی کے بھی گواہ ہیں
جس سے رومی گزرتے تھے رومی فرماتے ہیں اس راب پر چلتے ہوئے ایک شیطان سے بچنا وہ شیطان جس کا نام ہے حصت کوئی مجھ سے آگے کیسے ہے کسی پر یہ زندگی کا شاندار تجربہ مجھ سے پہلے کیسے بیت گیا تمہیں پتا ہے شیطان شیطان کیوں کرار پایا تھا وہ تو بڑائی بادل گزار جن تھا پر کیا ہوا اس کے ساتھ وہ حصت کے تیر کا اشکار ہو گیا تھا
حصت کا بیچ تیرے اندر ہوا پھر رہ بر سے رہ نماہ سے ہی تو جلنے لگ جائے گا پھر پہنچنے کا سوال ہی کھان رہ گیا اس لئے کہتے ہیں کہ مرشد کے سامنے میں کو مٹا کر جانا میں رہی میں کے تقازے رہے تو مرشد کچھ بھی نہ کر سکے گا بلکہ وہ تمہارے لیے اور بھی نقصان دے ثابت ہو گا کہ تم اس کی صوبت میں رہ کر بھی شیطان ہو جا ہوگے
اس لئے حصت کے شیطانی شرس سے بچنا میں اس کو کہوں تو کہوں گا انہاں سے بچنا میں سے بچنا کہ انہاں وہ چیز ہے جو حصت پر ہی پلتی ہے انہاں حصت سے موٹی ہوتی ہے اگر راہ میں حصت تجھے ملے تجھ پر حاوی ہو تو زمن جانا شیطان کا حملہ ہو گیا ہے انہاں تمہاری حصتی پر گالب آ رہی ہے
حصت سے بچنا ونہاں اس راہ پر تیرا چلنا ممکن نہ ہو پائے گا اگل شیر میں مرنا رومی کہتے ہیں شیطان حصت کی وجہ سے آدم سے زلط حتک محسوس کرنے کی وجہ سے راندہ درگا ہوا رومی اگل شیر میں کہتے ہیں راہِ حقیقت کی طرف چلتے ہوئے جو سب سے بڑی گھاٹی ہو سکتی ہے جسے تمہارا سام نہ ہو سکتا ہے وہ ہے حصت
یقین مانو وہ شخص بڑا ہی خوش نصیب ہے جو حصت نہیں حصت دیسی بیماری ہے کہ جو تمہاری شخصیت کو ہی نہیں پورے گھر کو پورے معاشرے کو علودہ کر دیتا ہے سمجھو کہ حصت کی نفسیات کیا ہے یہ مجھ سے برتر کیسے ہوا یہاں سے مقابلہ شروع ہوتا ہے اور مقابلہ پر انہاں کی ساری بیماریوں کو جنم دیتا ہے پھر ساری خلاقی اور سماجی براییں جنم لیتی ہیں
اور اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان خود اپنی حصتی سے بیشور ہو جاتا ہے وہ سراپا دماغ مکمل انہا بن کر پوری زندگی جیتا ہے سائوں کا شکار کرتا ہے اور اپنی حقیقت سے بے خبر ہی مر جاتا ہے رومی فرماتیں ہیں کہ بیشک تم نے اس جسم کو حصت کا گھر بنالیا ہے بنائے جا سکتا ہے لیکن اس جسم کو بنانے والے نے
تمہارا یہ جسم بہتی پاک پیدا کیا تھا یہ جسم مٹی کا نظر آتا ہے مگر یہ ہے سراپا نور کہ اس جسم کو جس چیز نے زندہ رکھا ہے وہ خدا کی اینارجی ہے وہ خدا جو نور ہے نور ان اللہ نور ہے رومی اگلی شہر میں فرماتیں ہیں کہ جب تُو کسی صاحبِ دل کے ساتھ کسی فکیر کے ساتھ حصد میں پڑھ گیا
تو جان تیری راہ خوٹی ہو گئی تیری دل میں حصد کی سیاہی پڑھ گئی اب نور کی بارش کے لیے تمہارا دل اندھا ہو گیا رومی فرماتیں ہیں مجھ سے پوچھ یہ میں نے یہ مصدی یہ مصدرت یہ حقیقت کان سے پائی میں نے بس ایک کام کیا حصد پر مٹی دالی اور مردانِ حق کے پاؤں کی خاق ہو گیا حصد ایک بیماری جو بہت عام ہے
مگر انسان کو اس کا احساس بہت کم ہوتا ہے مولانا رومی کہتے ہیں کہ بادشاہ کے وزیر کا خمیر حصد کی مٹی سے اٹھا تھا اسی لیے تو وہ ناق کی اپنے کان ناق کٹوا بیٹھا یہ بڑی گہری بات ہے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں کان ناق نمائن دے ہیں تمہاری حصی دنیا کے ان کا مقصد ہے چیزوں کو ویسے دیکھنا جیسی وہ ہیں لیکن جب انسان حصد کے ذہر سے جل بجھ رہا ہو
تو وہ چیزیں جیسی ہوں ویسی دیکھنے سے کاسر رہتا ہے دیکھتے ہو کسی شخصے تمہیں نفرت ہو تو اس کا اچھا عمل بھی اچھے عمل کے طور پر دیکھنے کی تمہاری صلاحیت ختم ہو جاتی ہے حصد ایک ذہنی حالت کا نام ہے کہ جو انسان کی دیکھنے سننے کی صلاحیت کو سب سے زیادہ مجرح کر دی ہے انسان کے حواس کی صلاحیت مجرح ہو جاتی ہے
تم چیزوں کو جیسی وہ ہیں ویسی دیکھنے سے محروم ہو جاتے ہو اور ویسے دیکھتے ہو جیسے تم دیکھنا چاہتے ہو رومی بڑی شاندار مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ باتشاہ کا وہ وزیر چونکہ حصد میں شدید حصد میں مبتلا ہو گیا تھا اس لیے اسے ناک اور کان سے محروم ہونا پڑا اشارہ تو اس کیسے میں اس واقع کی طرفی ہے