Dekho Suno Jano · Transcript · · Updated
French Revolution # 05 | A Failed Revolution | Usama Ghazi – Transcript
Video by Dekho Suno Jano · Watch the original on YouTube
Summary
AI-generated from the transcript. Verify details against the source video.
- انقلابِ فرانس کے دوران فرانسیسی جرنیل مارس دی لفیٹ نے بادشاہ کی جان بچائی اور پہرس کی انقلابی فوج بنائی۔
- میکسی ملین روپ سپیر کی قیادت میں جیکبین کلاب اور کمیٹی آف فبلک سیفٹی کے ذریعے دیشت کا دور شروع ہوا۔
- نپولین بونہ پارٹ نے سترہ سو ننانوے میں انقلابی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور پانچ سال بعد اٹھارہ سو چار میں شہنشاہ بن گیا۔

Use this video with Pro
Reading, copying and transcript downloads are free. Create saved AI results for this video with a signed-in Pro account ($9/month).
Transcript
Search ignores accents. All transcript text stays visible.
سترہ جلائی سترہ سو نواصی کا دن پیرس میں بستیل کے قلع پر عوام کے قبزے کو یہ تیسرہ دن ہے اور شہر کی سڑکوں پر ایک اجیب منظر ہے وہ بادشاہ جو پہرداروں اور ملازموں کے بغیر محل سے باہر نہیں نکلتا تھا آج سر جھکائے شہر میں اس طرح داخل ہو رہا ہے کہ اس کی بگی کو قومی عیسملی کیا راقی نے گھے رکھا ہے راستے کے دونوں طرف دو لاکھ مرد اور اورتے ہاتھوں میں ہتیار اٹھائے کھڑے ہے
لیکن وہ بادشاہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ اس کی بگی کے آگے گھوڑے پر قوم کا ہیرو بیٹھا ہے جس کے ہاتھ میں چمکتی بھی تلوار ہے جو دیکھنے والوں کو چیلنج کرے ہی ہے کہ حمد ہے تو بادشاہ کو ہاتھ لگا کر دکھاؤ یہ قوم کا ہیرو کون ہے اور عوام اسے اتنی عزت کیوں دے رہے تھے
میں ہوں محمد اساما غازی اور دیکھو سنو جانو کی سیریز انقلابِ فرانس کی آج آخری تست میں ہم آپ کو یہ دکھائیں گے کہ فرانسیسی تاریخ کے پہلے انقلاب کا انجام کیا ہوا سزائے موت کی مقالفت کرنے والے قاتل کیسے بنے اور یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ انقلاب اپنے ہی بچے کھا جاتا ہے
بادشاہ کی بگی کے آگے چلنے والا ہیرو اصل میں فرانسیسی جرنیل مارس دی لفیٹ ہے انقلابِ فرانس سے 8 سال پہلے جب فرانس نے امریکہ کی جنگے عزادی ممداخلت کی تو لفیٹ نے انگریزوں کو شکست دیتی اس لیے وہ قوم کا ہیرو تھا پھر جب انقلاب آیا تو لفیٹ نے انقلابیوں کا ساتھ دیا
پہرس کی انقلابی فوج بھی اسی نے بنائی تھی اور اسے نیلے صفید اور سرخ رنگ والا نشان دیا تھا جو پھر انقلاب کی پہجان بنا اور آج فرانس کا پرچم بھی انھی رنگوں پر مشتمل ہے تو یہ لفیٹ ہی تھا جس نے بادشاہ کو اس کی زندگی کی زمانت دیتی اسی لیے بادشاہ پہرس آگیا تاکہ عوام کو یقین دلاؤ سکے کہ وہ انقلابیوں کا دشمن نہیں ہے
علبتہ حفاظت کی زمانت ملنے پر بھی بادشاہ در رہا تھا کہ عوام اسے مار دالیں گے اس لیے وہ پہرس آنے سے پہلے اپنی وصیت تک لکھوا آیا تھا اور چرچ میں بھی آخری بار حاضری دے آیا تھا کہ شاید اب اسے واپسی نصیب نہ ہو لیکن لفیٹ کی وجہ سے بادشاہ کی جان بچ گے پہرس پہنچ کر بادشاہ نے عوام کے جمعے غفیر کے سامنے بادا کیا
کہ وہ قومی اسملی کا ہر فیصلہ مانے گا لیکن ہم دکھا چکے ہیں کہ بادشاہ اپنے فیصلوں پر قائم رہنے والا انسان نہیں تھا چنانچے جب اگلے ما اگست میں فرانس کی قومی اسملی نے انسانی حقوق کا چارٹر منظور کیا تو بادشاہ نے اس پر دستخد کرنے سے انکار کر دیا اس چارٹر میں تمام شہریوں کو برابری کے حقوق ازہارے رائے اور مذہب کی آزادی دی گئی تھی
لیکن جب بادشاہ نے اس چارٹر کو نہیں مانا تو عوام نے یہی سمجھا کہ بادشاہ نے اپنا وادہ توڑ کر قوم کو دھوکا دیا ہے چنانچے پانچ اکتوبر کو عوام نے وارسائی کے محل کے سامنے دھرنا دیدیا اس احتجاج میں کوئی تیز ہزار کے قریب خواتین بھی شامل تھی بلکہ یہ خواتین ہی تھی جو پہلے احتجاج کرتے ہوئے وارسائی محل تک آئی تھی پھر سارے پیرس سے لوگ وارسائی پہنچنے لگے
عوام کا دھرنا ساری رات جاری رہا لفیٹ کی قیادت میں ان قلابی فوج کے دستے بھی محل میں پہنچ گئے حالت یہ تھی کہ بادشاہ اور ملکہ محل کی بالکونی میں کھڑے عوام کا جمعے غفیر دیکھ رہے تھے اور خوف زدہ تھے کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا لیکن اس موقع پر لفیٹ نے آگے بڑھ کر ملکہ کا ہاتھ چوم دیا یورپ نے خواتین کو عزت دینے کے لیے ان کا ہاتھ چوم آ جاتا ہے چنانچے جب لفیٹ نے ملکہ کی عزت عفزائی کی تو عوام کا جوش بھی خندہ ہو گیا
شاہی خاندان کی جان تو بچ گئی لیکن عوام نے شاہی خاندان کو گرفتار کر لیا اور انہیں وارسائی کے محل سے پیلس لیائے جہاں انہیں ٹیولری پیلس میں دھرادیا گیا بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ فرانس میں حالات کنٹرول میں آ چکے لیکن دنیا میں ہر انقلاب کے ساتھ یہ مسئلہ رہا ہے کہ وہ پر امن نہیں رہ سکتا کیونکہ پرانے نظام کے حامی نئے نظام کو دل سے قبول نہیں کر پاتے
اور انقلابیوں میں یہ حاصلہ نہیں ہوتا کہ وہ پرانے نظام کے لوگوں کو پرتاشت کر سکے فرانس میں بھی یہی ہوا ایک طرف تو بادشات کے حامیوں نے سارے ملک میں ہنگامے شروع کر دیئے تو دوسری طرف انقلابیوں نے بھی اپنے سیاسی مقالفین اور پادریوں کو قتل کرنا شروع کر دیا انہنگاموں نے قومی اسملی میں ایک نئے گروب کو سر اٹھانے کا موقع دیا جس کا نام تھا جیکبین کلاب
اس کلاب کے لوگ انقلاب کے کٹر ہمائتی تھی اور انقلاب کے خلاف بولنے والے ہر شخص کو سزائے موت سے کم کسی سزا پر راضی نہیں ہوتے تھے اور اس گروب کا سربرہ تھا میکسی ملین روپ سپیر جی ہاں وہی روپ سپیر جس نے کبھی بادشا کی شان میں قصیدہ پڑھا تھا آج وہ بادشاٹ کا سب سے بڑا مخالف تھا روپ سپیر کے مطلق مشہور تھا کہ وہ کربت ہے نہ ہی کوئی اسے کربت بدا سکتا ہے یعنی وہ کربشن سے بلکل پاک ہے
روپ سپیر اپتدامے لوگوں کو برابری کے حقوق دینے کا زبر دستہامی اور سزائے موت کا سب سے بڑا مخالف تھا روپ سپیر کو ایک بار ججبی بنائے گیا تھا لیکن اس نے صرف اس بھی استیفہ دے دیا تھا کیونکہ وہ لوگوں کو سزائے موت نہیں دیے سکتا تھا اب یہی روپ سپیر جاکبین کلاب کو لیڈ کر رہا تھا لیکن اس کے خیالات بدل چکے تھے اور انھی بدلے ہوئے خیالات نے سارے فرانس کو ایک خونی دور میں دھکیل دیا
جسے رین of terror یا دیشت کا دور کہتے ہیں اور اس دور میں ایک ایسا آلہ بھی سامنے آیا جس نے پوری دنیا کو حلہ کر دیا آج بھی اس آلے کا نام دنیا بھر میں دیشت کی علامت ہے یہ آلہ تھا بلوٹین یہ آلہ ایک فرانسی سیاسدان اور دوکٹر جوصف اگنیس گلوٹین نے ایک جرمن انجینئر توبیس شمیڈٹ کے ساتھ مل کر تیار کیا تھا اور اپنے نام پر اس کا نام گلوٹین رکھا تھا یہ لوگوں کو سزائے موت دینے کا آلہ تھا
جس میں قیدی کو لکلی کے شکنجے میں کس کر اس پر ایک بلیڈ گرائا جاتا تھا اور سر کٹ کر سامنے موجود توکری میں کر جاتا تھا ستم زریفی دیکھیے کہ گلوٹین جس کا خیال کر کے آج بھی لوگ خوف زدہ ہو جاتے ہیں اسے اس لئے بنایا گیا تھا تاکہ لوگوں کو تکلیف دے موت نہ دینی پڑے کیونکہ جس دور میں یہ آلہ بنا تھا اس دور میں سارے اورپنے لوگوں کو بڑے ظالمانا طریقوں سے سزائے موت دی جاتی تھی
جس میں زندہ جلانے سے لے کر گھونوں سے باندھ کر بازو اور طانگے اکھاڑ لینے سمید کئی غیر انسانی اور خطرناک سزائے شامل تھی ایسے میں گلوٹین کو لگا کہ اس نے سزائے موت کا ایسا طریقہ اجات کر لیا ہے جس سے کسی کو بھی بہت آسانی سے بغیر تکلیف کے مارا جا سکتا ہے دس سکتوبر سترہ سو نواصیوں گلوٹین نے اپنے اس آلے کے مطلق پومی اسملی کو بتایا اور کہا یہ لوگوں کو سزائے موت دینے کا سادہ طریقہ ہے
اور پھر فرانس میں ہر مجرم کی گردن گلوٹین سے کٹمے لے دیشت کے دور میں تو یہ آلہ اتنا زیادہ استعمال ہوا کہ اسے ناشل ریزر یا قومی اس طرح کا لقب دے دیا گیا اب گلوٹین اپنے شکاروں پر گرنے کے لیے تیار تھا اتر فرانس کے حالات تیزی سے خراب ہو رہے تھے اور پھر بادشاہ کی ایک غلطی نے جلتی پر تیل کا کام کر دیا ہوا یوں کہ 21 جون سترہ سو ایکاننے کو بادشاہ لویس دا سکسٹینٹھ
اپنے محل کے گارڈز کو رشوت دیکھر خاندان سمیت فرار ہو گیا اپنے بستر پر اس نے ایک خط چھوڑ دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی جان کو خطرہ ہے اور حالات ٹھیک ہونے تک وہ پیرس واپس نہیں آئے گا بادشاہ کے فرار پر عوام بہت زیادہ مشتیل ہو گئے اور یہ افوائیں پھیل گئیں کہ بادشاہ اصل میں غیر ملکی طاقتوں سے ملکر فرانس کی انقلابی حکومت کو ختم کرنا چاہتا ہے انفاہوں میں کچھ سچائی بھی تھی
کیونکہ فرار کے بعد بادشاہ کی منزل سردی قلا مونٹ میڈی تھا اس زمانے میں آسٹریان امپائر کی حدود فرانس سے ملتی تھی اور آسٹریہ پر ملکہ میری انٹونیٹ کے بھائی لیپولڈ دویم کی حکومت تھی ایسی خبرے تھیں کہ مونٹ میڈی کے قلے میں بادشاہ کی حمایتی جمع ہو رہے ہیں اور آسٹریہ کی مدد سے فرانس کے خلاف جنگ شروع کر دیں گے معاملہ جو بھی تھا بادشاہ اپنی منزل تک نہیں پہنچ پایا
پیرس سے ایک سوس سی میل دور ورنیس میں ایک پوست ماستر نے اسے پہچان لیا انقلابی فوج نے شاہی خاندان کو گرفتار کر کے باپس پیرس بھیج دیا لیکن اب بادشاہ کی عزت ختم ہو چکی تھی اور لوگ اسے کھلے آام غدار کہہ رہے تھے یہی نہیں فرانس کی انقلابی حکومت نے آسٹریہ پر بادشاہ کی مدد کا الزام لگا کر پہل سترہ سو بانوے میں آسٹریہ کے خلاف الانے جنگ کر دیا یوں فرانس ایک ایسے راستے پر چل پڑا جس کا انجام تباہی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں تھا
یہ جنگ شروع سے ہی فرانس کو مہنگی پڑی ہم فرنچ ریولوشن کی تیسری اور چاہتی قسط میں آپ کو دکھا چکے ہیں کہ فرانسیسی فوج انقلاب کی وجہ سے بہت کم ذور ہو جکی تھی چنانچے جب اس فوج کا مقابلہ آسٹریہ کی well organized فوج سے ہوا تو کئی جگہوں پر فرانسیسی شپاہی لڑائی سے پہلے ہی میدان چھوڑ کر بھاگ گئے اس دران جنرن ریاست پرشیا کی فوج بھی فرانس میں داخل ہو گئی
فرانس کے علاقوں long way اور وردان سمید کئی اہم علاقوں پر اتحادی فوج کا قبضہ ہو گیا پرشیا کے جنرنڈ دیوک آف برونزوک نے تو یہ علان بھی کر دیا کہ اتحادی فوج فرانس کے بادشا لویس یا لویدہ 16 کو عوام کی قید سے رہائی دلاگ کر اس کی حکومت بحال کرنا چاہتی ہے اس نے یہ بھی کہا کہ آندا جو بادشا کا حکوم نہیں مانے گا اسے سزا ملے گی جب فرانسیسی عوام کو اس علان کا پتہ چلا
تو انہوں نے ٹیولری ٹائلس پر حملہ کر کے بادشا کو جان سے مارنے کی کوشش کی لیکن 13 اگست کو قومی سملی کے حکوم پر بادشا اور ملکا کو باقائدہ گرفتار کر کے پیرس کے ایک قید خانے جسے ٹیمپل کہا جاتا تھا وہاں منتقل کر دیا گیا یہی نہیں بادشا سے ہم دردی دکانے پر جن لوفیٹ کو بھی جو کہ قوم کا ہیرو تھا بیزت کر کے استیفہ دینے پر مجبور کیا گیا اور آخر لوفیٹ کو جلہ بطن ہونا پڑا
21 ستمبر کو اسملی نے بادشاٹ ختم کر دی یہ فیصلہ تو دروست تھا لیکن وقت کے ساتھ فرانس کے خراب حالات کے پیشنظر انقلابی حکومت سے کچھ ایسے سخت فیصلے بھی ہو گئے جو انقلاب کی روح کے خلاف تھے حکومت نے ملک کا نیا آئین جو کہ سترہ سویکانوے میں بنایا گیا تھا اور جس میں تمام شہریوں کے حقوق کی زمانت دی گئی تھی سے موتل کر کے ملک میں مرشل اللہ نافس کر دیا اس کے ساتھ ہی ایک کمیٹی بنایا گئی جسے کمیٹی آف فبلک سیفٹی کا نام دیا گیا تھا
اس کمیٹی میں پہلے آٹھ راکین تھے پاد میں ان کی تعداد بارہ کر دی گئے اس کمیٹی کو مرشل اللہ کے تحت جنگ شروع کرنے اور مخالفین کو سزائے دینے سمیت ایسے تمام اختیارات دیے گئے جو عام طور پر ڈکٹیٹروں کو ہی حاصل ہوتے ہیں یعنی اب صرف بارہ آدمی سارے فرانس پر حکومت کر رہے تھے اور ان کے پاس ایسے اختیارات تھے کہ وہ کسی کی بھی جانتک لے سکتے تھے اور انہوں نے ان اختیارات کا دل کھول کر استعمال بھی کیا
روپ سپیر اس کمیٹی کا سب سے طاقت ورکن تھا وہ لوگوں کو قائل کرنے اور اپنے ساتھ ملانے کی زبردست سلاحیت رکھتا تھا اور کمیٹی کے زیادہ تر اراقین اس کے ساتھ تھے چنانچے وہ ایک طرح سے کمیٹی کا دیفیکٹو سربرا بن گیا تھا اور مولک میں منمانے فیصلے نافس کر رہا تھا روپ سپیر سمجھتا تھا کہ ان قلاب کو بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ مازول بادشہ کو قتل کر دیا جائے روپ سپیر کی اس سوچ کی وجہ یہ تھی کہ فرانس کے حالات ان قلابی حکومت کی قابو سے باہر ہو چکے تھے
پہلے تو اوام بادشہ اور اس کے حامیوں پر الزام لگاتے تھے کہ ان کی لوٹ مار کی وجہ سے غریبوں کو روٹی نہیں ملتی لیکن اب وہ نئی حکومت سے پوچھتے تھے کہ آپ تو اختیار تمہارے ہاتھ میں ہے تو پھر بھی روٹی سستی نہیں ہو رہی غریب بھوکے مر رہے ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا ان قلابی حکومت نے قرزوں میں دوبے ہوئے مولک کو اوسری اور پرویشیا کے خلاف نئی جنگ میں دھکیل دیا تھا بلکہ برطانیہ نے بھی فرانس پر چڑھائی کر دی تھی یعنی حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے تھے
تو ان حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ان قلابیوں نے ایک نیا طریقہ اپنایا سارے فرانس میں یہ مشہور کیا جانے لگا کہ مازول بادشہ جیل میں بیٹ کر بھی ملک کے خلاف سازدشے کر رہا ہے ملک خراب حالات کے زمدار مازول بادشہ کی ہمائتی ہیں جو بادشہ کو واپس لانے کے لیے غیر ملکی طاقتوں سے ملکر ملک میں روٹی سمے دوسرے بہران پیدا کریں اس لیے مازول بادشہ پر غداری کا مقدمہ چلا کر اسے سزائے موت دینی چاہیے
یہ ہر با کام کر گیا لوگ ایک بار پھر مازول بادشہ کو ہی اپنے مسائل کا زمدار قرار دینے لگے اور ہر طرف بادشہ کو مارڈالو کی سدائیں بلند ہونے لگیا مازول بادشہ کے خلاف پورا گراوند بنانے کے بعد دیسمبر ستران سو بان میں میں لوئی دا سکسٹینٹھ کا ٹرائل شروع کر دیا گیا لوئی نے فرار کی جو کوشش کی تھی اسے بھی غداری کے مقدمے میں شامل کر لیا گیا کہتے ہیں لوئیس دا سکسٹینٹھ کو معلوم تھا کہ اسے ہر صورت میں سزائے موت ہی دی جائے گی
پھر بھی اس نے اپنے باکیلوں سے کہا کہ وہ اس کا دفاق کریں اور ہر الزام کا جواب دیا جائے تاکہ فرانس کے لوگ یاد رکھیں کہ ان کا بادشہ اچھا تھا مازول بادشہ کو غیر ملکی فوج سے اب مدد کی زیادہ امید نہیں رہی تھی کیونکہ فرانسیسی فوج نے کئی شکستے کھانے کے بعد بل آخر بیس ستمبر ستران سو بان میں کو فرانس کے شمال مشرف کی علاقے والمے میں پروشین فوج کو شکست دے کر اتحادیوں کو وقتی طور پر فرانس سے نکال باہر کیا تھا