Fikr Nama | فکر نامہ · Transcript · · Updated
What is Fusus al-Hikam? Ibn Arabi's Wahdat al-Wujud Explained From the Start | Fikr Nama – Transcript
Video by Fikr Nama | فکر نامہ · Watch the original on YouTube

Use this video with Pro
Reading, copying and transcript downloads are free. Create saved AI results for this video with a signed-in Pro account ($9/month).
Transcript
Search ignores accents. All transcript text stays visible.
کچھ لوگ دنیا دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور کچھ لوگ حیرانی کو ہی دیکھ کر دنیا سمجھ لیتے ہیں۔ ابنِ عربی رحمت اللہ علاہِ ان میں ستھے جنہوں نے علم کو عبادت اور حیرت کو حدایت میں بدل دیا۔ فکرنامہ میں خوشا مدید جہاں آج ہم انھی کے قدموں کے نشان دھوننے جا رہے ہیں۔ جی آج ہم بات کر رہے ہیں شیخ اکبر محید دین ابنِ عربی کی
باروی اور تیرمی صدی کے ایک ازیم سوفی مفکہر اور ایک ایسے روحانی مسافر جن کی پوری زندگی حق کی تلاش تھی۔ ان کا مقصد صرف آپ کہلیں فلسفیانہ موشغافیہ نہیں تھا بالکل نہیں بلکہ علم اور اپنے روحانی تجربے کے ذریعے خالی کے قائنات کو جاننا اس کی مارفت حاصل کرنا اور یہ دیکھنا کہ یہ جو قائنات ہے اس کے ہر ذرے میں اس کی قدرت اس کی حکمت کیسے جلوگہ گر ہے؟
جی انہوں نے اپنی زندگی وقف کر دی اسی کام کے لیے مارفت اور قائنات میں اس ذاتِ حق کی تجلیات کو یعنی اس کے ذہور کو سمجھنے کے لیے ان کا نام تو خیر روحانیت اور اسلامی فکر میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے تسانیف تو بہت ہے لیکن ایک کتاب جس نے واقعی مشری کو مغرب دونوں کو بہت متاصر کیا وہ ہے فسوسل حکم
اس کا تلفظ اہم ہے فسوسل حکم حکم یعنی حکمتیں جی ہا حکم یعنی کمانز نہیں حکم ویزٹم تو مطلب ہوا حکمت کے نگینے اور یہ صرف کوئی خوشک فلسفہ یا نظریات کی کتاب نہیں ہے نہیں بلکل نہیں یہ علمِ علاہی اور روحانی بسیرت کا ایک آپ سمجھے گہرہ سمندر ہے ابنِ عربی خود فرماتے ہیں کہ یہ ان کے مقاشفات اور قلبی واردات پر مبنی ہے جو انہیں اطاہ ہوئی
تو فسوسل حکم میں ہے کیا درستل یہ مختلف امبیاءِ قرام علحم السلام سے منصوب گہری حکمتوں کا ایک مجموہ ہے حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر نبی ایک خاص فس یعنی نگینے کی طرح ہیں ہر نگینہ مطلب ہر نبی کی شخصیت اور ان کے پیغام کے ذریعے اللہ کے حکمت کا کوئی خاص پہلو سامنے آتا ہے
بلکل یوں سمجھیں کہ حوشنی ایک ہی ہے لیکن وہ مختلف رنگوں کے نگینوں سے گزر کر اللہ گلک ترحان سے ظاہر ہو رہی ہے اور یہ سب نگینے ملکر پھر اس ایک مکمل علاہی حقیقت کی تصویر بناتے ہیں جی جس کی طرف ابنِ عربی ہمیں متوجے کرنا چاہتے ہیں اور اس ساری گفتگو کا اس کتاب کا مرکزی نقطہ کیا ہے وہ بنیادی خیال وہ بنیادی خیال جس کے گرد یہ ساری حکمتیں گھونتی ہیں وہ وحدت الوجود کا نظریہ ہے
یہ ابنِ عربی کے تعلیمات کا آپ کہہ سکتے ہیں نچور ہے آسان لفظوں میں اگر سمجھنا چاہیں تو وحدت الوجود کا مطلب کہ یہ جو کچھ بھی موجود ہے یہ پوری قائنات یہ سب اصل میں ایک ہی حقیقت کا ظہور ہے جی، ہر شے، ہر فرد، ہر واقیا وہ اسی ایک لا زوال، لا مہدود، علاہی سر چشمے کا اقس ہے اس کی تجلی ہے تو یہ جو ہمیں اتنی کسرت نظر آتی ہے یہ رنگا رنگی
یہ اسی ایک وحدت کے مختلف پیلو ہے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ اختلاف بھی اسی وحدت کا حصہ ہے اس سے علاگ نہیں اور شاید آج کے دور میں اس بات کو سمجھنا پہلے سے بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے یقینن آج جب انسان خود کو اتنا علگ تھلگ محسوس کرتا ہے دوسروں سے، فترت سے، یہاں تک کہ اپنی ذات کی گہرائیوں سے بھی تو ابنِ عربی کی تعلیمات ایک طرح سے مرحم کا کام کرتی ہیں
جی، یہ یاد دلاتی ہیں کہ ہم علک جزیرے نہیں بلکی ایک ہی سمندر کا حصہ ہیں یہ جو آج کل کے مسائل ہیں، انا پرستی، زہنی انتشار، مادیت پرستی، وجودی تنحائی ان سب کا ایک گہرہ روحانی جواب ملتا ہے ان تعلیمات میں اور اسی پسے منظر میں وہ انسانِ کامل یعنی پرفکٹ مین کا تصور بھی پیش کرتے ہیں جی، یہ وہ مثالی انسان ہے جو اپنے اندر اپنے وجود میں
اللہی صفات اور قائنات کی حقیقتوں دونوں کو ایک طرح سے جمع کر لیتا ہے ایک شفاف آئینے کی طرح بالکل جس میں خالق کی صفات بھی نظر آئے اور مخلوق کی حقیقتیں بھی یہ تصور ہمیں داوت دیتا ہے کہ ہم اپنی روحانی صلاحیتوں کو پہچانے قائنات میں اپنا اصل مقام سمجھیں اور یہ کہ ہم بھی اس عظیم وحدت سے جرسکتے ہیں تو فکرنامہ پر ہماری یہ جو نئی سیریز شروع ہو رہی ہے یہ اسی گہرے سمندر میں غوطہ لگانے کی ایک کوشش ہے
ہم فوسوسل حکم کے ہر باب کو یعنی ہر نبی سے جڑی حکمت کے نگینے کو ایک ایک کر کے قدم با قدم آسان انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں گے ہمارا مقصد صرف علمی گفتگو نہیں نہیں بلکہ ان تعلیمات کی املی حمیت کو اجاگر کرنا ہے جی اِس سیریز کا مقصد ابنِ عربی رحمت اللہ کی ان گہری بسیرتوں کو آپ تک پہنچانا ہے جو بزاہر شاید پیچیدہ لگیں
لیکن جن کی روشنی میں ہم یہ دیکھ سکیں کہ کیسے وہ بلند ترین علاہی حقائق ہماری روزمرہ زندگی سے ہمارے باتن سے ہمارے شعور سے جڑےوے ہیں یہ صرف ماضی کی حکمت نہیں ہے یہ حال اور مستقبل کے لیے بھی ایک زندہ رہنومای ہے آسطہ اور امید بھرے لہجے میں تو یہ سیریز ایک داوت ہے اس گہرے علمی اور روحانی صفر کا حصہ بننے کی اس حیرت کو حدایت میں بدلنے کے صفر میں ہمارے ساتھ شریق ہونے کی
اگر آپ بھی اس علمی اور روحانی صفر کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو فکرنامہ کو سبسکرائپ کیجی ہمارے ساتھ رہیے کیونکہ یہ صفر صرف سمجھنے کا نہیں بدل جانے کا ہے